لاہور، 19اکتوبر (اے پی پی): وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے پاکستان کی تاریخ کے پہلے پنجاب ڈیمنشیا پلان کا افتتاح کر دیا۔وزیراعلیٰ آفس میں پنجاب ڈیمنشیاپلان کے حوالے سے تقریب منعقد ہوئی ، صوبائی وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ومیڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر یاسمین راشد نے پنجاب ڈیمنشیاپلان کی بک وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کو پیش کی۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈیمنشیاکے بارے میں عالمی اعداد وشمار فکر انگیز ہی نہیں بلکہ تشویشناک ہیں، ڈیمنشیا کا مرض پاکستان میں بھی بڑھ رہا ہے، بزرگوں کو اس مرض کا علم نہیں ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ڈیمنشیا کے مرض سے یاداشت چلی جاتی ہے، ہمیں ڈیمنشیا کے مرض میں مبتلا بزرگوں کے علاج کیلئے اپنی ذمہ داری نبھانی ہے۔
چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ پنجاب پہلا صوبہ ہے جہاں پر ڈبلیو ایچ اوکی معاونت کے ساتھ ڈیمنشیا پلان کا آغاز کیاگیا ہے۔ ڈبلیو ایچ اوکاشکریہ ادا کرتا ہوں جس کے تعاون سے پنجاب ڈیمنشیاپلان کا آغازکیاگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت ڈیمنشیا کے تقریباً 4لاکھ مریض ہیں اوران میں روز بروز اضافہ ہورہاہے، پریشان کن امر یہ ہے کہ ڈیمنشیاکے 90 فیصد مریضوں کی تشخیص ہی نہیں ہو پاتی، ڈیمنشیا کا مریض محض خاندان کیلئے ہی نہیں بلکہ سماج کے لئے بھی ذمہ داری بن جاتا ہے۔
چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ حکومت پنجاب ڈیمنشیا سے بچاؤ اور علاج کیلئے ڈبلیو ایچ او کے پلان کا حصہ بنی ہے اور پنجاب ڈیمنشیا پلان اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ، پنجاب کا یہ ڈیمنشیا پلان دوسرے صوبوں کیلئے ایک قابل تقلید مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیمنشیا نہ صرف عالمی سطح کا ایشو بن چکا ہے بلکہ یہ قومی سطح پر بھی ہمارے لئے تشویش کا باعث ہے، ڈیمنشیا کے تدارک کیلئے خاطر خواہ اقدامات کی ضرورت ہے تا کہ مریض اور اس کے خاندان کو آگاہی اور معاونت دی جا سکے۔
وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے پنجاب ڈیمنشیا پلان کے آغاز پرصوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد اوران کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا۔ صوبائی وزیر سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر یاسمین راشد،Alzheimer پاکستان کے صدر ضیاء حیدررضوی،سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حسین جعفری اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔











