پاکستان کے ترقی نہ کرنے کی وجہ یہاں کا سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کا نہ ہونا ہے؛ احسن اقبال

13

اسلام آباد،19اکتوبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی ،ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ہماری ترقی نہ کرنے کی وجہ یہاں کا سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کا نہ ہونا ہے، اگر ہم آئندہ 25 سال بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سمت کو درست کرنا ہوگا، آپ کو خود پر یقین کرنا ہے جو ملک کی شناخت بنے گا، ہر شخص کو برابری کو بنیاد بنانے کیلئے کم درجے کی سوچ کو ختم کرنا ہوگا، دنیا کے کامیاب معاشرے انفرادی سوچ کو اجتماعی سوچ میں بدل دیتے ہیں۔

ان خیالات کا  اظہار انہوں نے  بدھ  کو یہاں   پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس (پی این سی اے )میں  تقریب سے خطاب کرتے  ہوئے کیا۔ تقریب میں  وفاقی وزیر بجلی انجینئر خرم دستگیر خان  بھی موجود تھے ۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ  نوجوان نسل ملک کے تشخص کے حوالے سے کام کرے، 75 سال کے بعد ہم ملک کو وہاں نہیں پہنچا سکے جہاں اسے ہونا چاہئے تھا مگر اس کے باوجود ہم نے ترقی کی جو ملک سائیکل نہیں بناتا تھا وہ آج جہاز بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی وہ ہے جو دوسروں کے مقابلے میں اپنا تقابلی جائزہ ہے، جب تک اپنے وسائل کی صحیح تشخیص نہیں کریں گے ہم ترقی نہیں کر سکتے، ہم ملک کو ٹاپ 25 ملکوں میں لانا چاہتے ہیں، ہم نے 2ہزار موٹر وے، 4ہزار میگا واٹ بجلی بنائی۔

وفاقی وزیر   احسن اقبال نے کہا کہ عالمی جریدوں نے یہ تسلیم کیا کہ اس رفتار سے ہم کئی ملکوں کو پیچھے چھوڑ دیں گے، پھر گزشتہ چار سال میں ملک کا دیوالیہ نکالا گیا، ہمارے پاس تنخواہیں دینے کے پیسے بھی نہ تھے، ملک میں مختلف بیانیے چل رہے ہیں، ہماری ترقی نہ کرنے کی وجہ یہاں کا سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کا نہ ہونا ہے، اگر ہم آئندہ 25 سال بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سمت کو درست کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو خود پر یقین کرنا ہے جو ملک کی شناخت بنے گا، ہر شخص کو برابری کو بنیاد بنانے کیلئے کم درجے کی سوچ کو ختم کرنا ہوگا، دنیا کے کامیاب معاشرے انفرادی سوچ کو اجتماعی سوچ میں بدل دیتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں حق اور سچ کو تجربے کی بنیاد پر سینچا جاتا ہے، ہمیں معاشرے میں نفرت کی بیخ کنی کرنا ہوگی اور اتحاد و اتفاق سے آگے بڑھنا ہوگا، ہمیں نفرت کے بتوں کو توڑ کر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔