پاکستان میں چھاتی کے کینسر سے ہونے والی زیادہ تر اموات کی وجہ آگاہی کی کمی ہے؛خاتون اول ثمینہ علوی

15

کراچی،31اکتوبر  (اے پی پی):خاتون اول ڈاکٹر ثمینہ عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں چھاتی کے کینسر سے ہونے والی زیادہ تر اموات کی وجہ آگاہی کی کمی  ہے۔

کراچی جمخانہ میں میمن پروفیشنل فورم کے زیر اہتمام بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی سیمینار میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے خاتون اول نے عوام میں آگاہی اور آگاہی مہم کو صرف اکتوبر تک محدود نہ رکھنے پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس آگاہی مہم کے آغاز کے بعد سے ڈاکٹروں نے بتایا کہ تیسرے یا چوتھے مرحلے میں تشخیص کے کیسز کسی حد تک کم ہو گئے ہیں۔

ثمینہ علوی نے کہا کہ پاکستان میں چھاتی کے کینسر کی وجہ سے ہونے والی 50 فیصد اموات تاخیر سے تشخیص کی وجہ سے ہوتی ہے جبکہ مغرب میں صحت یابی کا تناسب 98 فیصد ہے۔انہوں نے کہا کہ خوش قسمتی سے آگاہی مہم کے آغاز کے بعد اس بیماری کو معیوب سمجھے جانے کے  تاثر میں کمی آئی ہے اور  اب متعدد فورمز پر اس پر کھل کر بات کی جا رہی ہے۔

 خاتون اول نے کہا کہ آگاہی مہم میں ڈاکٹروں اور سول سوسائٹی کے علاوہ بریسٹ کینسر سے بچ جانے والے افراد کی شرکت حوصلہ افزا ہے۔ انہوں  نے سیمینار کے انعقاد پر میمن پروفیشنل فورم کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ فورم کے اراکین اس آگاہی پیغام کو آگے بڑھائیں گے۔انہوں نے سیمینار کے شرکا پر زور دیا کہ وہ خصوصی افراد کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے ایک جامع معاشرے کی تشکیل کے لیے ان کی کوششوں میں ان کے ساتھ تعاون کریں ۔

 اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر روفینہ سومرو نے کہا کہ چھاتی کا کینسر خواتین میں سب سے عام کینسر ہے، چھاتی کی اچھی صحت کے لیے تین مراحل کی ضرورت ہے جس میں پہلا خود معائنہ، دوسرا طبی معائنہ اور تیسرا میموگرافی ہے۔

اس موقع پر دوسروں کے علاوہ چھاتی کے کینسر سے بچ جانے والے دو افراد بھی موجود تھے،دونوں بچ جانے والوں نے اپنے گفتگو میں ذاتی معائنہ کرنے اور بروقت تشخیص کی اہمیت کو اجاگر کیا۔اس موقع پر میمن پروفیشنل فورم نے خاتون اول کو یادگاری شیلڈ پیش کیا۔