وزیر اعظم شہباز شریف کا دو روزہ دورۂ چین، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر  اتفاق

23

اسلام آباد، 03 نومبر (اے پی پی ): وزیر اعظم شہباز شریف اپنے پہلے دور روزہ دورے   پر  چین پہنچے ،  وزیر اعظم کا عہدہ  سنبھالنے کیبعد  شہباز شریف کا  یہ چین کا پہلا دورہ  ہے ، وزیرا عظم کیساتھ وفدمیں وفاقی وزرا بھی شامل ہیں۔

دورہ کے دوران   وزیر اعظم شہباز شریف نے  چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی  اور  چینی کمیونسٹ پارٹی (CPC) کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری کے طور پر دوبارہ منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے مل کر کام کرنے کا عہد کیا۔

وزیر اعظم نے  اپنے چینی ہم منصب لی کی کیانگ سے بھی  ملاقات کی ،جس دوران  دو طرفہ  تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا عزم کیا  گیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے چین کی حکومت اور عوام کی جانب سے بروقت اور فراخدلی سے دی جانے والی امداد کو سراہا اور  پاک-چین وزراۓ خارجہ کا اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے لئے اجلاس 2023 میں اسلام آباد میں منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔فریقین نے ہتھیاروں کے کنٹرول اور تخفیف اسلحہ سے متعلق مشاورت کا خیرمقدم کیا۔

ملاقات میں  گوادر بندرگاہ کے سی پیک  کے اہم و کلیدی منصوبوں کی تکمیل پر اطمینان کا اظہار کیا گیا  اور گوادر بندرگاہ کے دیگر متعلقہ منصوبوں پر پیش رفت کو تیز کرنے پر اتفاق کیا۔چین نے  برآمدات کو بڑھانے میں پاکستان کی فعال مدد کرنے پر آمادگی کا اظہارکیا۔ وزیراعظم نے  پاکستان سے معیاری اشیاء بشمول خوراک اور زرعی مصنوعات کو چینی مارکیٹ میں دستیاب کرنے کا خیرمقدم کیا اور چین کے ای-کامرس پلیٹ فارمز پر پاکستان کے “کنٹری پویلینز” کے قیام کی حمایت کی  جبکہ پاکستانی طلباء کو چین آنے کے لیے مزید سہولت فراہم کرنے کے لیے قریبی رابطے رکھنے پر اتفاق کیا گیا ۔

 وزیر اعظم نے چینی قیادت کو جموں و کشمیر کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا۔‎چین نے اعادہ کیا کہ مسئلہ کشمیر تاریخ کا ادھورا تنازع ہے ،اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔‎ فریقین نے بین الاقوامی برادری  کی جانب سے افغانستان  کو مسلسل مدد کرنے اور تعاون فراہم کرنے کی  ضرورت پر زور دیا۔‎

وزیر اعظم نے چین کی طرف سے پیش کردہ گلوبل سیکورٹی انیشییٹو‎(جی ایس آئی) کی حمایت کا اظہار کیا ۔‎فریقین نے شنگھائی تعاون تنظیم کے فریم ورک کے اندر ہم آہنگی اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا اور‎موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو کم کرنے پر باہمی تعاون کا فیصلہ کیا گیا۔

کامیاب دورے کے بعد وزیر اعظم وفد کے ہمراہ وطن واپس روانہ ہوئے ، چین کی اعلیٰ قیادت نے وزیر  اعظم  کو رخصت کیا۔