چترال،13 نومبر (اے پی پی ):چترال کے علاقے مروئی بالا میں بجلی کی حصول کیلئے آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس موقع پر سابقہ ایم این اے شہزادہ افتحار الدین مہمان خصوصی تھے جبکہ کانفرنس کی صدارت سابق ایم پی اے مولوی عبد الرحمان نے کی۔
آل پارٹیز کانفرنس میں علاقے کے عمائدین نے کہا کہ صرف لوئیر چترال میں گولین بجلی گھر کے آس پاس کے علاقے 25000 آبادی پر مشتمل ہے مگر یہ لوگ پچھلے گیارہ مہینوں سے بجلی سے محروم ہیں۔ اس علاقے کو پہلے صوبائی محکمہ پیڈو کی ریشن پن بجلی گھر سے بجلی فراہم ہوتی تھی مگر 2015 میں ریشن بجلی گھر سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوا اور چھ سال بعد 2021 میں دوبارہ بحال کیا گیا۔اس دوران اس علاقے کو واپڈا کے بجلی گھر سے پیسکو بجلی فراہم کرتی تھی تاہم پچھلے سال صوبائی اور وفاقی محکمہ بجلی یعنی پیڈو اور پیسکو کے درمیان لائن لاس اور ٹیرف یعنی بجلی کی نرح پر تنازع پیدا ہوا چونکہ واپڈا کی بجلی نہایت مہنگی ہے اور پیڈو کی بجلی اس سے سستی ہے جو صوبائی محکمہ ہے۔ اس تنازع کے نتیجے میں یہ علاقہ پچھلے گیارہ مہینوں سے بجلی سے محروم ہے یہاں چوبیس گھنٹوں میں صرف تین گھنٹے بجلی آتی ہے۔
علاقے کے عمائدین نے متنبہ کیا کہ اگر یہ مسئلہ جلد سے جلد حل نہیں ہوا تو یہاں 24 گھنٹوں میں صرف 3 گھنٹے آنے والی بجلی کا بھی لوگ بائیکاٹ کرکے اسے منقطع کریں گے اور ساتھ ہی ہم خواتین، بچوں سمیت سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے۔
آل پارٹیز کانفرنس سے جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ ن، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی و مذہبی پارٹیوں کے رہنماوں نے بھی اظہار خیال کیا۔
عوام علاقہ نے بھی بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ان کو درپیش مشکلات پر مایوسی اور افسوس کاا ظہار کیا۔ علاقے کے لوگوں نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی رہنماؤں نے یہ مسئلہ حل نہیں کیا تو آئندہ اس علاقے میں کوئی بھی امیدوار ووٹ مانگے کی زحمت نہ کرے ہم کسی کو بھی ووٹ نہیں دیں گے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر یہ مسئلہ حل نہیں ہوا تو ہم ایک بار پھر سڑکوں پر نکل آئیں گے اور ہوسکتا ہے کہ ہم بجلی کی لائن کو بھی منقطع کریں گے جو ہماری زمینوں سے گزرچکی ہیں مگر ہم اس سے محروم ہیں۔
اس کانفرنس میں کثیر تعداد میں ضلع لوئیر اور ضلع اپر چترال کے لوگوں نے شرکت کی جو بالکل غیر سیاسی طور پر صرف ایک پوائنٹ ایجنڈے پر اکھٹے ہوئے تھے۔ کانفرنس میں طلباء اور علاقے کے لوگوں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی جن کی منہ پر ایک ہی مطالبہ تھا کہ ہمیں بجلی دی جائے۔











