خیرپور،22نومبر(اے پی پی)؛” مخلوط نظامِ تعلیم اور ہماری ذمہ داریاں” کے عنوان سے شاہ عبدہ یونیورسٹی میں تقریری مقابلے کا انعقادکیا گیا،تقریب کی صدارت وائیس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خلیل احمد ابوپوٹو نے کی جبکہ ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر تاج محمد لاشاری، اعزازی مہمان تھے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر خلیل احمد ابوپوٹو نے کہا کہ مجھے طلباءکی فکر انگیز تقاریر سن کر بے حد خوشی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مخلوط تعلیم میں استاد کا کردار کلیدی ہے کیونکہ استاد نمونہ عمل ہوتا ہے، استاد تعلیمی ادارے کا بنیادی ستون ہوتا ہے کیونکہ استاد طلبہ کو مثبت سمتوں پر گامزن کرتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر خلیل احمد ابوپوٹو نے کہا کہ مخلوط تعلیم وہ نظام تعلیم ہے جو طلباءکو یکساں مواقع فراہم کرتا ہے لیکن یہ طلباءکی ذہانت پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم تبدیلی کا مظہر ہے جو نوجوانوں کو سیکھنے کی صلاحیتوں سے آراستہ کرتی ہے۔
تقاریر کے دوران طلباءنے مخلوط تعلیم کی خوبیوں اور خامیوں پر روشنی ڈالی۔انگریزی زبان کے مقابلے میں عبدالقدیرنے پہلی، سیف اللہ چانڈیو نے دوسری اور سوہان سومرو نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اردو زبان کے مقابلے میں اسد عباس نے پہلی، فاطمہ سلیم نے دوسری اور بہادر علی نے تیسری پوزیشن حاصل کی جبکہ سندھی زبان کے مقابلے میں شہزاد احمدنے پہلی، محمد عاقب نے دوسری اور اکبر منگی اور ایاز علی پھلپوٹو نے تیسری پوزیشن حاصل کی، مقابلے میں اساتذہ اور طلباءکی کثیر تعداد نے شرکت کی۔











