اسلام آباد،8دسمبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ معذور افراد کے ساتھ کوئی بھی امتیازی سلوک، ممنوع، بے عزتی یا دقیانوسی رویہ انتہائی قابل مذمت ہے، معذور افراد ذہنی طور پر اتنے ہی قابل ہوتے ہیں جتنے دوسرے انسان ہیں، بحیثیت معاشرہ ہمیں معذور افراد کے بارے میں اپنے رویوں کو بدلنا چاہئے اور زندگی کے تمام شعبوں میں جامعیت پیدا کرنی چاہئے، عوامی مقامات اور عمارتوں کے کسی بھی حصے میں ان کی نقل و حرکت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا چاہئے، انہیں ہنر فراہم اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا چاہئیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو ایوان صدر میں معذور افراد کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں خاتون اول بیگم ثمینہ عارف علوی، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے نمائندوں، معذور افراد ،مختلف ممالک کے سفراء اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ معذور افراد کو خیرات کی بنیاد پر نہیں بلکہ مساوی صلاحیتوں کے حامل افراد کے طور پر ملازمتیں دی جانی چاہئیں اور انہیں اداروں کے کارآمد رکن بنانے کے لئے خصوصی طور پر تشکیل کردہ ملازمتیں اور آلات فراہم کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ معذور افراد کو تعلیم کی فراہمی کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں اور انہیں قومی، صوبائی اور مقامی سطح پر ان کی نقل و حرکت اور شمولیت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے آلات اور معاون ٹیکنالوجی فراہم کی جائے، اس کے علاوہ انہیں عزت، وقار اور قابلیت کے مطابق ملازمتیں دی جائیں۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ہم اب تک نظر انداز کی گئی 10 فیصد آبادی کو معاشرے کے پیداواری اور کارآمد افراد میں تبدیل کر سکتے ہیں اور انہیں اس قابل بنا سکتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔انہوں نے کہا کہ معذور افراد کے بارے میں معاشرے میں دقیانوسی تصورات تھے اور انہیں تضحیک کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا جس سے امتیازی سلوک اور نفرت کو فروغ ملا اور معذور افراد کو روزمرہ کی سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی حوصلہ شکنی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ معذور افراد برے ناموں سے پکارنے اور اس کے بارے میں دقیانوسی تصورات کو ختم کیا جائے اور ہمارے معاشرے کو ہمہ گیر بنانے کے لئے اجتماعی رویہ میں تبدیلی کی ضرورت ہے جو کہ ملک کی ترقی اور ترقی کے لئے ضروری ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ بینک اب معذور افراد کو خصوصی قرضے دے رہے ہیں تاکہ وہ گھر میں رہ کر کاروبار کر سکیں اور مختلف آن لائن مارکیٹنگ پلیٹ فارمز پر ان کی مارکیٹنگ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے والدین اور معذور افراد کے درمیان آگاہی پیدا کریں تاکہ وہ ان قرضوں سے فائدہ اٹھا سکیں اور اپنی زندگی میں مالی اور معاشی طور پر خود مختار بنیں۔
قبل ازیں بیگم ثمینہ عارف علوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دسمبر کا پورا مہینہ معاشرے کی تمام سطحوں اور اداروں کے سرکاری اور نجی شعبوں میں معذور افراد کے حقوق کو فروغ دینے کے لئے وقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بصارت سے محروم تمام نابینا افراد کو ان کی نقل و حرکت میں مدد کے لئے سفید چھڑی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں معذور افراد کے لئے ایک مقررہ کوٹہ تھا تاہم یہ کوٹہ یا تو پورا نہیں کیا گیا یا معذور افراد کو خیراتی طور پر نوکریاں دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ملازمتیں پیدا کی جانی چاہئیں جو معذور افراد کی اہلیت کے مطابق ہوں اور انہیں ان کی پوری صلاحیت کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں سہولت فراہم کریں۔
وفاقی سیکرٹری برائے انسانی حقوق علی رضا بھٹہ نے اپنے خطاب میں معذور افراد کو معاشرے کے مکمل اور باوقار ارکان کے طور پر شامل کرنے کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ معذور افراد کے حقوق کو یقینی بنانے کے لئے ایک قانون پاس کیا گیا ہے اور موبائل فون پر مبنی ایپلی کیشن کا بھی اجراء کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکول میں کم از کم ایک استاد کو معذور افراد کے ساتھ آسانی سے بات چیت کرنے کے لئے مطلوبہ مہارت کے ساتھ تربیت دینے کے لیے اقدامات کئے گئے ہیں تاکہ انہیں معاشرے میں مکمل طور پر شامل ہونے میں مدد ملے۔
قبل ازیں مختلف صلاحیتوں کے حامل بچوں نے اشارے کی زبان میں قومی ترانہ پڑھنے کے علاوہ ٹیبلو پیش کیا۔ تقریب کے آغاز پر قومی ترانہ سنانے کے لئے اشاروں کی زبان کا بھی استعمال کیا۔











