اسلام آباد،14دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام مکمل کریں گے، برآمد کنندگان کو ہر ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں، آئی ٹی برآمدات کا حجم سہولیات فراہم کرکے باآسانی 5 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے، گردشی قرضہ میں کمی اولین ترجیح ہے، بجلی کی پیداوار میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اس سے بھی نمٹنا ہے، توانائی کی بچت کیلئے مہم شروع کی جائے۔
وزیراعظم محمد شہبازشریف کی زیرصدارت بدھ کو معاشی صورتحال کے بارے میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں خزانہ، اقتصادی امور ڈویژن، منصوبہ بندی، دفاع کے وفاقی وزرا کے علاوہ گورنر سٹیٹ بینک، حبیب بینک، الفلاح بینک کے صدور اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے معاشی ٹیم کو واضح اہداف دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ موجودہ پروگرام پورا کرے گی، برآمدات میں اضافہ کے لئے ایکسپورٹرز کی بھرپور مدد کریں گے اور تمام ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو تباہ حال اور بدحال معیشت ملی تھی جسے ہم نے دن رات کی محنت سے استحکام دیا ہے۔اجلاس میں ملک کی معاشی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، آئی ایم ایف کے 9ویں جائزے سے متعلق غور کیاگیا جبکہ کرنٹ اکائونٹ خسارے پر قابو پانے کے لئے مختلف اقدامات زیربحث آئے۔
وزیراعظم نے آئی ایم ایف پروگرام مکمل کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تمام متعلقہ حکام کو مالیاتی اور کرنٹ اکائونٹ خسارے پر قابو پانے کے لئے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں ضروری پالیسی اور انتظامی اصلاحات پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ برآمد کنندگان کو ہر ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں، بندرگاہوں پر ضروری سہولیات، نئی مارکیٹس کی نشاندہی کے علاوہ خام مال اور مشینری کی درآمد میں مدد فراہم کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت آئی ٹی برآمد کا حجم 2 ارب ڈالر ہے جسے انٹر پرینیور اور نیا کاروبار شروع کرنے والوں کی مدد کرکے اور سہولیات کی فراہمی سے باآسانی 5 ارب ڈالر تک بڑھایاجاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سہولیات کی فراہمی سے بیرون ملک پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ بینکنگ چینلز سے اپنی رقوم وطن عزیز کو ارسال کریں۔
وزیراعطم نے ہدایت کی کہ توانائی کے شعبے میں پوری توجہ اور تندہی کے ساتھ اصلاحات پرعمل کیاجائے۔ گردشی قرض میں کمی اولین ترجیح ہے، بجلی کی پیداوار میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ہمیں گردشی قرض سے بھی نمٹنا ہے، ہمیں توانائی کی مقامی سطح پر پیداوار اور اضافے کے لئے کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ درآمدی ایندھن پر بتدریج انحصار ختم ہوسکے۔ انہوں نے کہ مہنگے درآمدی ایندھن کی وجہ سے عام عوام پر بوجھ پڑتا ہے، ہمیں اپنے عوام کو ان تکالیف سے نجات دلانا ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ توانائی کی بچت کے لئے عمومی رویوں کو بہتر بنانے کے لئے بھی مہم شروع کی جائے، عوام کو آگاہ کرنا ہے کہ توانائی کی بچت کرنا اس وقت قومی ضرورت ہے ۔اجلاس میں تشویش کا اظہار کیا گیا کہ گزشتہ چار سال کے دوران پاکستان کی معیشت شدید ترین بدنظمی ، تباہی وبربادی سے دوچار رہی حالانکہ جب سابق حکومت نے اقتدار سنبھالا تھا تو 2018 میں جی ڈی پی کی شرح 6.1 فیصد تھی لیکن معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے بجائے بدترین گورننس اور معاشی بدانتظامی نے اکانومی کو جمود کا شکار کردیا۔ اجلاس نے قرار دیا کہ 2018 میں سرکاری قرض 25 ٹریلین روپے تھا جو مارچ 2022 تک42مہینوں میں بڑھ کر 44.5 ٹریلین تک پہنچ گیا۔ اسی طرح دیگر معاشی اشاریے بھی موجودہ حکومت کو انتہائی بری حالت میں ملے۔ موجودہ حکومت نے انتہائی مشکل حالات میں صورتحال کو سنبھالا دیا اور ملک کو معاشی استحکام دیا۔
اجلاس نے قرار دیا کہ سیلاب کی صورتحال کی وجہ سے پاکستان کی معاشی بحالی کے عمل کو دھچکا لگا ہے لیکن موجودہ حکومت نے تین کروڑ 30 لاکھ پاکستانیوں کی مدد میں معاشی مشکلات کو حائل نہیں ہونے دیا ۔ اس عزم کا اعادہ کیاگیا کہ سیلاب کی صورتحال کے باوجود جس طرح موجودہ حکومت نے ملک میں غذائی اجناس اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قلت نہیں ہونے دی، اسی طرح ملک کو بتدریج معاشی مشکلات کے بھنور سے نکالاجائے گا۔
وزیراعظم نے وفاق کے زیرانتظام تمام وزارتوں کو ہدایت کی کہ توانائی کی بچت کی جائے اور کفایت شعاری اختیار کرتے ہوئے اخراجات پر قابو پایاجائے۔











