اسلام آباد،15دسمبر (اے پی پی):جمہوریہ تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے جمعرات کو یہاں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سے ملاقات کی۔ وزیر دفاع نے تاجکستان کی عسکری اور سول قیادت اور اس کے عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ افغانستان کے پڑوسی ہونے کے ناطے پاکستان اور تاجکستان دونوں کویکساں سکیورٹی چیلنجز اور خطرات کا سامنا ہے۔ پاکستان تمام مسائل کے پرامن حل پر یقین رکھتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں تاجکستان کی کوششوں کو سراہتا ہے۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان انٹیلی جنس صلاحیتوں میں اضافے اور تاجکستان کی مسلح افواج کے ساتھ تکنیکی مہارت کے تبادلے میں مدد فراہم کرتا رہے گا۔وزیر دفاع نے مسلح افواج کے درمیان دوستانہ کھیلوں کے مقابلے اور دونوں ممالک کے خصوصی مواقع پر باہمی بنیادوں پر فوجی بینڈ کی نمائش کی تجویز پیش کی۔ملاقات کے دوران دوطرفہ دفاعی تعاون سے متعلق امور کے علاوہ دفاعی تعاون میں اضافے کی نئی راہیں مسخر کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تاجک صدر نے اپنی حکومت کے عزم کا یقین دلایا اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کا عہد کیا۔ انہوں نے وزیر دفاع کو جلد تاجکستان کے دورے کی دعوت دی۔











