لاڑکانہ،22دسمبر(اے پی پی): چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمد علی شیخ نے جمعرات کو یہاں لاڑکانہ ڈسٹرکٹ بار روم اور لائبریری کا افتتاح کیا۔
اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمد علی شیخ نے کہا کہ لاڑکانہ آج میری پہچان ہے، میں اپنے بار میں واپس آیا ہوں، یہاں کے سینئر وکلاءنے مختلف اوقات میں میری رہنمائی کی ہے اور اسے تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ بار نئے انداز میں بنی ہے اور بہت اچھی ہے، ممبران کی تعداد اور آبادی میں دن بدن اضافہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے وکلاء کو تجویز پیش کرنی چاہیے کہ ہم توسیع کے لیے کوششیں کریں گے۔ بار اور ہم اس کام کو اگلی سکیم میں منظور کریں گے۔
جسٹس احمد علی شیخ نے کہا کہ رتوڈیرو جوڈیشل کمپلیکس کا کام دن رات تیزی سے جاری ہے اور مجھے یاد دلایا گیا ہے کہ اس کا کام تین ماہ نہیں تو دو ماہ میں مکمل ہو جائے گا جس کے بعد ججز اور وکلاء وہاں بیٹھ سکیں گے۔ جہاں تک ڈیکری بار کے کام کا تعلق ہے تو لاڑکانہ بار کا کام بھی بہت جلد شروع کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ججز کی کمی کا مسئلہ سنگین مسئلہ ہے، گزشتہ ماہ ہم نے ڈی پی سی کرائی جس میں 62 ایڈیشنل سیشن ججز کو ترقی دی گئی اور تاریخ میں پہلی بار ہم نے ججز کی کمی کو پورا کیا ہے، ضرورت پڑی تو وہاں ججز تعینات کیے جائیں گے۔
جسٹس احمد علی شیخ نے کہا کہ سینئر سول ججز کی ترقیاں بھی جاری ہیں، ترقیوں سے سندھ کی عدلیہ میں ججز کی 99.9 آسامیاں پر ہو جائیں گی۔
ڈسٹرکٹ بار میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں سندھ ہائی کورٹ سرکٹ کورٹ لاڑکانہ کے جسٹس شمس الدین عباسی، جسٹس امجد علی سہتو، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاڑکانہ سید شرف الدین شاہ، ڈسٹرکٹ بار کے صدر ایڈووکیٹ صفدر علی غوری، جوائنٹ سیکریٹری ستار حالی سمیت ہائی کورٹ کے ججز اور دیگر سمیت ڈسٹرکٹ بار کے وکلاءنے کثیر تعداد میں شرکت کی۔











