کیلاش قبیلے  کا سالانہ مذہبی تہوار چھومس اختتام پذیر ، کئی جوڑے شادی کے بندھن میں بند گئے

21

چترال،23 دسمبر(اے پی پی ): کیلاش قبیلے کا سالانہ مذہبی تہوار چھومس  اپنی تمام تر رعنائیوں، رنگینیوں اور خوبصورتی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا ہے ۔یہ تہوار ہر سال موسم سرما میں نئے  سال کی آمد پر اسے خوش آمدید کہنے کیلئے منایا جاتا ہے۔موسم سرما کے اس تہوار میں کیلاش لوگ اپنی مذہبی جگہ مالوش میں قربانی بھی کرتے ہیں جن میں بکرے کاٹے جاتے ہیں۔اس دوران رات کے وقت مشعل بردار جلوس نکال کر چھانجا کا رسم بھی منایا جاتا ہے۔چھومس تہوار میں کیلاش قبیلے کے مذہبی رہنماء یعنی قاضی حضرات سورج کی نقل و حرکت کو دیکھ کر نئے سال کیلئے پیشن گوئیاں بھی کرتے ہیں۔جبکہ اس دوران ایک لومڑی بھی دوڑائی جاتی ہے اگر لومڑی پہاڑ کی طرف چڑھی تو نیا سال کیلئے نیک شگون تصور کیا جاتا اگر آبادی کی طرف دوڑی تو پھر ان کے عقیدے کے مطابق نیا سال کچھ زیادہ اچھا نہیں گزرے گا۔

کیلاش قبیلے کے مذہبی  تہواروں کو منانے کی جگہ چرسو کو بڑا کرکے دوبارہ تعمیر کیا جارہا ہے تاکہ اس کے اندر زیادہ سے زیادہ لوگ آکر اپنی رسم مناسکیں۔اسی طرح کیلاش قبیلے کی عبادت گاہ، قبرستان، تہوار منانے کی جگہ اور مذہبی مقامات کیلئے زمین خرید نے اور ان کی تعمیر و مرمت پر محکمہ اوقاف اور اقلیتی امور نے سات کروڑ روپے کا فنڈ فراہم کیے ہیں۔

اس تہوار میں غیر ملکی سیاحوں نے بھی شرکت کی جن کا کہنا  تھا  کہ ایسی ثقافت اور کلچر دنیا بھر میں کہیں بھی دیکھنے کو نہیں ملتی اور ہم کیلاش  کی ثقافت کو بہت پسند کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جن سیاحوں نے ابھی تک کیلاش نہیں دیکھا وہ ضرور آئے اور اس مخصوص ثقافت کےحامل  لوگوں کی رنگارنگ اور دلچسپ تہوار ضرور دیکھیں۔

کیلاش قبیلے کے مرد و خواتین نے بھی اس تہوار کے طور طریقوں اور رسم و رواج کے بارے میں معلومات فراہم کی تاہم ان کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ ہمارےخلاف منفی معلومات فراہم کرتے ہیں جس سے ہماری ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے اس سے گریز کیا جائے۔ کرینا اعظم،  رسمی بی بی اور  اقبال شاہ کیلاش نے کہا کہ ہم ہر سال اس تہوار کو اس موسم میں مناتے ہیں جس میں بچوں کو باقاعدہ طور پر کیلاشی مذہب میں داخل کیا جاتا ہے اور گھروں میں دعائیں بھی مانگی جاتی ہیں۔

چھوس تہوار کے آخری  دن مرد عورتوں کا اور عورتیں مردوں کا لباس پہن کر اکھٹے رقص کرتے ہیں اور آخری دن من چلے کسی دوسری بستی میں جاکر اپنی شادی کا اعلان بھی کرتے ہیں۔اس تہوار کو دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں  ملکی اور غیر ملکی سیاخوں نے وادی کیلاش آکراس میں شرکت کی۔مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاخوں نے بھی یہ مطالبہ کیا کہ وادی کیلاش کی سڑکوں کو جلد سے جلد  بہتر کیا جائے تاکہ ان کو آنے جانے میں مشکلات کا سامنا نہ ہو۔