سندھ میں ساڑھے چھ ہزار بند اسکولوں میں سے چار ہزار کو کھول دیا گیا ہے؛ صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ

16

ٹنڈومحمدخان،25 دسمبر(اے پی پی):صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے کہا کہ سندھ میں ساڑھے چھ ہزار بند اسکولوں میں سے چار ہزار کو کھول دیا گیا ہے، باقی اسکولوں کو بھی اساتذہ کی بھرتی کرکے کھول دیا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بخاری ہاؤس میں پیپلزپارٹی کے ضلعی صدر و ایم پی اے سید اعجاز شاہ بخاری سے ان کے کزن کے انتقال پر تعزیت کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔ سید سردار شاہ کا کہنا تھا کہ حالیہ برساتوں اور سیلاب میں سندھ کے بیس ہزار سے زائد اسکولوں کو نقصان پہنچا ہے، ساڑھے بارہ ہزار جزوی اور ساڑھے سات ہزار اسکول مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں۔نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ کی تنخواہوں کی بندش کے حوالے سے ان کا کہنا تھا یہ محکمہ خزانہ کا معاملہ ہے ہماری طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے، ہم نے تمام نئے اساتذہ کے کوائف اے جی سندھ کو بھیج دیئے ہیں۔

 سندھ میں تعلیمی اداروں کے ترقیاتی کاموں کے التوا کے معاملے پر سید سردار شاہ نے کہا کہ التوا کی وجہ پرانے ریٹ ہیں، ٹھیکیداروں کو 2011 والے ریٹس دیئے جا رہے تھے ابھی انہیں بڑھایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اکیلا کچھ نہیں کرسکتا، تعلیم کی بہتری کیلئے مقامی لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ہم اسکول بناتے ہیں اہل علاقہ انہیں اپنی بیٹھک اور مویشیوں کے باڑے بنا لیتے ہیں، ہمارے پاس پولیس نفری نہیں ہے جو اسے کنٹرول کر سکیں۔

سید سردار شاہ نے کہا کہ میں نے اپنے بچوں کو سرکاری اسکول میں داخل کروا کے اونر شپ لی تھی،میں کسی پر جبر یا زبردستی نہیں کر سکتا کہ وہ اپنے بچے سرکاری اسکول میں داخل کروائیں۔

اس موقع پیپلزپارٹی کے ایم پی اے اعجاز شاہ بخاری ،خرم کریم سومرو سمیت دیگر بھی موجود تھے۔