پاکستان  کے دیوالیہ ہونے کاکوئی امکان نہیں  ، ایسی  باتیں کرنے والے نام نہاددانشوروں کوناکامی اورمایوسی  ہوگی؛ وزیرخزانہ سینیٹرمحمداسحاق

9

اسلام آباد،28دسمبر  (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداسحاق ڈارنے کہاہے  پاکستان دیوالیہ نہیں ہوگا اور اس  بات کاکوئی امکان نہیں  ،دیوالیہ ہونے کی باتیں کرنے والے نام نہاددانشوروں کوناکامی اورمایوسی  ہوگی ،پاکستان  کو مشکلات کے بھنورسے نکالنا ہے،اقتصادی زونز میں پیش رفت ہورہی ہے ، زراعت کیلئے پیکج دیا گیا،حسابات جاریہ کے کھاتوں کے خسارے کو 8 فیصد سے  نیچے لانا ،    پرائمری بیلنس کوسرپلس   اور سٹاک ایکسچینج کوبہتر بنانا  ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے بدھ کو پاکستان سٹاک ایکسچینج میں گونگ تقریب سے اپنے ویڈیوخطاب میں کیا۔وزیرخزانہ نے تقریب میں شرکت کی دعوت پرمنتظمین کاشکریہ اداکیا اورکہاکہ سٹاک اورکیپٹل مارکیٹ کی ترقی ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل  ہے۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ بدقسمتی سے سابق حکومت نے دوسرے شعبوں کی طرح اس شعبہ کوبھی نظراندازکیا،  سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن گزشتہ دوسالوں سے  بدقسمتی سے فعال نہیں تھا،  موجودہ حکومت نے   شفاف عمل کے ذریعے اسے مکمل کیا ،  ایس ای سی پی کے قوانین میں ہم نے ترامیم کیں۔

 وزیرخزانہ نے کہاکہ کسی بھی ملک کے سمت کو درست اورمثبت راہ پرگامزن کرنے میں سٹاک ایکسچینج کا اہم کردار ہوتا ہے،  ہماری گزشتہ حکومت نے  کارپوریٹ شعبےمیں اصلاحات کیں،  کمپنی آرڈی ننس میں ترامیم کی گئیں ان اصلاحات سے سٹاک ایکسچینج  جنوبی  ایشیا کی بہترین سٹاک مارکیٹ بن گئی ، اس شعبہ کی  ترقی ہماری حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں اورمل کر اس شعبے کوترقی کی راہ پرگامزن کریں گے  ۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ  کارپوریٹ شعبے کے  ٹیکس سے متعلق  معاملات ایف بی آر کے سامنے رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی  تاجر اورصنعت کارکمیونٹی  ملک کے ساتھ کھڑی ہے جب  پاکستان 2013 میں میکرواکنامک عدم استحکام کا شکارتھا اوریہ بات کہی جارہی تھی کہ  جوبھی حکومت بنے گی وہ 6  سے 8 ماہ میں ڈیفالٹ ہوجائیگی مگر پاکستان کی بزنس کمیونٹی نے حکومت کا ساتھ دیا اور  تین سال کے عرصہ میں ہمارے معاشی اشاریئے درست ہوگئے ، افراط زرکی شرح 4.6 فیصد ہوگئی ،  خوراک کی افراط زرکی شرح 2 فیصد تھی ،ہماری سٹاک ایکسچینج جنوبی ایشیا کی بہترین سٹاک مارکیٹ بن گئی   پاکستانی کرنسی  دنیا کی بہترین کرنسیوں کی دوڑ میں شامل ہوگئی ، براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں خاطرخواہ اضافہ ہوا،  100 ارب ڈالرکی مارکیٹ کیپٹلائزیشن ہوئی۔

وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداسحاق ڈار نےکہا کہ  یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ گزشتہ چارسالوں  میں  70 ارب ڈالرکی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کیوں متاثرہوئی، ہم نے جواقدامات کئے اس کے تحت 2030 میں  پاکستان نے  دنیا کی 20 بہترین معیشیتوں میں جانا تھا  ،ہمیں سوچنا چاہئے کہ گزشتہ چاربرسوں میں ایسا کیا ہوا کہ   ہم   اب ایک ایک ڈالر کیلئے   بھاگ ڈور کررہے ہیں۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ  پاکستان کامستقبل بہترین اورشاندارہے،  معشیت کو پائیدار اورلچکدار بنانا ہوگا  ، میں روزسنتا ہوں کہ ملک دیوالیہ ہورہاہے ، میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان دیوالیہ نہیں ہوگا اس  بات کاکوئی امکان نہیں  ، ہمیں مسائل درپیش ہیں مگران مسائل پرقابوپایا جارہاہے ، یقینی بنائیں گے کہ ملک کوآگے لیکر جائیں، ہم ہوں یا نہ ہوں مگرملک کا مستقبل روشن ہے،  ہم سب مل کرملک کودرست راہ پرگامزن کریں گے ۔