کوڑے سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ بہت اہم ہے ،جلد مکمل کیا جائے ، ابراہیم حسن مراد

16

لاہور۔30جنوری  (اے پی پی):نگران وزیر بلدیات پنجاب ابراہیم حسن مراد کی زیر صدارت اجلاس  ہوا۔لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے سی ای او علی عنان اور دیگر افسران نے انہیں بریفنگ دی۔  ابراہیم حسن مراد نے کہا کہ نگران وزیر اعلی محسن نقوی کی خواہش ہے کہ لاہور اتنا صاف نظر آئے جتنا پہلے کبھی نہیں آیا ۔ صاف ستھرے لاہور کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔کوڑے سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ بہت اہم ہے جلد مکمل کیا جائے ،کمپنی کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مثالی بین الاقوامی کمپنیوں سے ایم او یو سائن کیے جائیں ۔ ابراہیم حسن مراد  نے کہا کہ کمپنی کو سسٹین ایبل بنانے کے لیے بجلی، بائیو گیس اور قدرتی کھاد جیسے منصوبے اے ڈی پی میں شامل کرائیں۔ نگران وزیر ابراہیم حسن مراد  نے کہا کہ عوام کے ٹیکسوں کے پیسے کا صحیح استعمال یقینی بنایا جائے ہر علاقہ کی ضرورت کے مطابق افرادی قوت لگانے کے لیے کمپنی اپنا محکمانہ آڈٹ کرائے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جس مقصد کے لیے کمپنی کو بھاری فنڈز دیتی ہے وہ مقاصد پورے ہونے چاہیںویسٹ مینجمنٹ کے حوالے سے جامع اور بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے۔ آگاہی مہم کا مرکزی نقطہ “صفائی نصف ایمان ہے” کو رکھا جائے ۔سرکاری ملازم اپنا کام عبادت اور عوام کی خدمت سمجھ کر کریں، کوڑا پھینکنے کے رویوں میں تبدیلی لانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور ریسرچ بروئے کار لائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایندھن اخراجات بچانے کے لیے کمپنی کی تمام گاڑیوں پر ٹریکر اور کیمرے لگائے جائیں  اورعملے کی موثر نگرانی کے لیے بھی جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے۔ اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ایل ڈبلیو ایم سی سنٹر آف ایکسیلنس کے طور پر کام کر رہی ہے،  ایل ڈبلیو ایم سی روزانہ لاہور شہر سے پانچ ہزار ٹن تک کوڑا اٹھا رہی ہے۔ کوڑے سے سستی بجلی بائیو گیس اور قدرتی کھاد بنانے کے لیے آٹھ کمپنیاں دلچسپی لے رہی ہیں لکھو ڈیر سائیٹ سے نکلنے والی میتھین گیس دو کمپنیوں کو بیچ رہے ہیں ۔ کراچی کی ایک کمپنی بائیو گیس سلنڈرز میں فروخت کرنے کے منصوبے میں دلچسپی ظاہر کر رہی ہے۔ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کے سی ای او نے بریفنگ میں بتایا کہ ویسٹ مینجمنٹ کے حوالے سے مارکیٹوں، تعلیمی اداروں اور گھروں میں آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے ۔کمپنی کو ڈی ایچ اے کینٹ اور نجی ہاوسنگ سوسائٹیوں سے واجبات کی وصولی میں مشکلات ہیں ، واسا کے بلوں میں سینی ٹیشن کی مد میں وصولی ایل ڈبلیو ایم کو ملنی چاہیے ۔ صوبائی وزیر کو بتا یا گیا کہ اب تک تقریبا نو سو گھوسٹ ملازمین فارغ کیے گئے ہیں بہتر کارکردگی کے لیے کمپنی کو اتھارٹی میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔