لاہور،26مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان الیکشن نہیں اپنی سلیکشن چاہتے ہیں ،سائیفر، لانگ مارچ، جیل بچو، الیکشن کمیشن، زمان پارک، عدالتوں پر حملہ، دھمکی اور دھاوے کے تماشے انجام کو پہنچ گئے ،لاہور نے گزشتہ روز پی ٹی آئی کو مسترد کردیا ، ہاکی گرائونڈ کی تصویریں جوڑ کر کام چلانا پڑا ،تصویریں جوڑتے جوڑتے مینار پاکستان ہی غائب کردیا ،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام کی تختی بدل کر اسے احساس پروگرام بنایا ،2014 کے محمد نوازشریف کے صحت کارڈ کو انصاف کارڈ بنالیا ،محمد نوازشریف کے یوتھ پروگرام کو جوان پروگرام بنالیا ،صرف تختیاں بدلیں تھیں، وہ پروگرام بھی چلالیتے تو ملک میں لنگرخانوں کی ضرورت نہ پڑتی ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو یہاں ماڈل ٹائون میں پریس کانفرنس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ لاہور کے لوگوں نے عمران خان کو مسترد کردیا، جلسے میں پہلے ہاکی اسٹیڈیم اور مینار پاکستان کی تصاویر لگائی گئیں ،ہاکی گرائونڈ اور جلسے کی تصاویر کو جوڑتے جوڑتے مینار پاکستان ہی غائب ہو گیا،عمران خان الیکشن نہیں تم پھر سے اپنی سلیکشن چاہتے ہو۔ مریم اورنگزیب نے کہاکہ 10 نکاتی ایجنڈے میں کہتے ہیں میں ملک کی گورننس ٹھیک کر دوں گا،پھر کہتے ہیں میں معیشت ٹھیک کروں گا، معیشت ٹھیک کرنی تھی تو10 سال خیبرپختونخوا میں کیوں نہیں کی،پھر یہ کہتے ہیں ملک کا قانون ٹھیک ہونا چاہئے،طاقتور اور غریب کیلئے قانون بالکل ایک ہو گاجس دن تم جیل جائو گے،پولیس والوں پر پیٹرول بم پھینک کر تمہارا دل بھر گیا ہو گا؟یہ کہتے ہیں میں نے عدالت نہیں جانا، مینار پاکستان جلسہ کرنے جانا ہے، ایک شخص ماچیس لے کر پورے جنگل کو آگ لگانا چاہتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام،محمد نواز شریف کے یوتھ لون صحت کارڈ کے منصوبوں پر عمران خان نے اپنی تختیاں لگائیں ، تختی کو بدل کر احساس پروگرام بنایا گیا، یہ کہتے ہیں 10 نکاتی ایجنڈے میں ہائوسنگ سکیم کیلئے قرضے دیں گے، کونسی ہائوسنگ سکیم کیلئے قرضے دیں گے، وہ جو 50 لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیاتھامگر4 سال میں ایک کروڑ لوگوں کو بے روزگار کر کے چلا گیا ۔
مریم اورنگزیب نے کہاکہ یہ کہتے ہیں منی لانڈرنگ پر قابو پائیں گے، فارن فنڈنگ کا جواب دیں، ان کے دور میں انڈے ملے، نہ کٹے، نہ ہی مرغیاں،عمران خان کے تمام حربے اب اختتام پذیرہو رہے ہیں ، لاہور کے لوگوں نے عمران خان کو مسترد کردیا۔انہوں نے کہا کہ ایک شخص جب ننھی منی جلسی میں جاتا ہے تو بلٹ پروف جیکٹ پہن کر،بلٹ پروف گاڑی میں جاتا ہے اور بلٹ پروف کنٹینر یا جو ڈبہ سا بنایا ہوا تھا اس کے پیچھے سے تقریرکرتا ہے یہ وہ شخص ہے جو کہتا ہے کہ خوف کے بت توڑ دو،عمران خان نے پارلیمنٹ اورآئین کو توڑنے کے تمام حربے استعمال کئے،اس کے بعد عالمی سازش کا بیانیہ بنایا اور وہ عالمی سازش چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باوجوہ سے ہوتی ہوئی ،شہباز شریف تک پہنچی ،تھوڑی دیر کیلئے پھر دوبارہ وہ جنرل باجوہ پر آئی اور انہیں لائف ٹائم ایکسٹینشن دینے کی آفر کی گئی،اس کے بعد سائفر آ گیا، کاغذ لہرایا کہ یہ ملک کے خلاف عالمی سازش ہے،سوشل میڈیا ٹولز نے مان لیا کہ عالمی سازش ہو گئی اور ان سوشل میڈیا پراپیگنڈس کا جو گر باہر بیٹھا ہوا ہے انہوں نے ٹویٹ کرنی شروع کر دی کہ امپورٹڈ حکومت آ گئی،وہی امریکی سازش محمد نوازشریف سے ہوتی ہوئی محمد شہبازشریف پر تھوڑی دیر رکی پھر محسن نقوی پر ختم ہوئی۔
وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان کے سارے مسئلے نفسیاتی ہیں ،حیران ہو کہ وہ کون لوگ ہیں جو اس شخص کے اوپر یقین کرتے ہیں اور اس کی کہانی پر یقین کرتے ہیں وہ کہانی جو پانچ دس دن بعد جھوٹی ثابت ہوتی ہے ،کل لاہور کے لوگوں نے تو اس کو مسترد کیا ہے یہاں تک مسترد کیا ہے کہ ہاکی گرائونڈ اور مینار پاکستان کی تصویریں جوڑ دی گئیں پھر اس کے درمیان سے مینار پاکستان ہی غائب کردیا، یہ وہ شخص ہے جس کی ہر چیز روز روشن کی طرح عیاں ہے،پھر سائفر کی معافی مانگی تو وہ بیانیہ جب ڈوبنے لگا تو پھر کہا کہ میں لانگ مارچ کروں گا ، پھر لانگ مارچ کو اسلامی ٹچ کے ساتھ جوڑتے جوڑتے فیل ہو گیا پھر جب وہ فیل ہوگیا تو کہا کہ میں جیل بھرو تحریک شروع کروں گا جو جیل بچو تحریک بن گئی اس کو جوڑتے جوڑتے لوگوں ، صحافیوں اور پولیس والوں کی شہادتیں ہوئیں ۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان آپ نے سائفر کا تماشا کر لیا ، لانگ مارچ کا تماشا کر لیا، جیل بھرو تحریک کا تماشا کر لیا، الیکشن کا تماشا کر لیا، زمان پارک کا تماشا کر لیا ، عدالتوں پر دھاوا بولنا ،گالی دینا ،دھمکی دینے کا تماشا کر لیا ،پولیس والوں کے سر توڑے،پولیس والوں کی گاڑیاں جلائیں،انہیں زخمی کیا ان کے اوپر پٹرول بم پھینکے ،زمان پارک سے دہشتگرد نکلے ،پٹرول بم بنانے کے تمام لوازمات نکلے، اسلحہ، غلیلیں،بنٹے اور ڈنڈے نکلے،پھر کہا میں نے جلسہ کرنا ہے میں نے عدالت نہیں جانا میری جان کو خطرہ ہے،مجھے گولی مار دیں گے میں بیمار ہوں،میں بزرگ ہوں اور میں 72 سال کا ہوں میں نے عدالت نہیں جانا ،میں نے مینار پاکستان جلسہ کرنے جانا ہے،اس وقت میں نہ بزرگ ہوں ،نہ بیمار ہوں نہ میری جان کو خطرہ ہے،نہ مجھے گولی لگے گی نہ مجھے قتل کریں گے اس وقت کوئی خطرہ نہیں تھا صرف عدالت جہاں فارن فنڈنگ ، توشہ خانہ اور اپنی بیٹی ٹیریان خان کاجواب دینا ہے وہاں میں نے نہیں جانا پھر الیکشن کروا لو،ایک شخص ماچیس لے کر پورے جنگل کو آگ لگانا چاہتا ہے،اس شخص کی مرضی اور شیطانی عادت اور شیطانی ذہنیت کے اوپر اس ملک کا آئین اور قانون نہیں چل سکتا،اگر تم ملک میں الیکشن چاہتے تھے ،اگر تم ملک میں آئین چاہتے تھے جس پر آج کل لیکچر دے رہے ہو تو پھر تم نے نیشنل اسمبلی کی تحریک عدم اعتماد جس میں تمہیں پتا تھا کہ تم ہار رہے ہو تو تم نے اسمبلی کیوں توڑی،تم نے سپیکر،ڈپٹی سپیکر اور صدر سے کیوں آئین شکنی کروائی جس کو سپریم کورٹ نے انڈورسمنٹ کر کے بحال کیا یہ صرف ذہنی مسئلہ ہے اور کچھ نہیں،پھر میں سن رہی تھی دس نکاتی ایجنڈا وہ جو دس نکاتی ایجنڈا ہے جس کے تحت ملک کی گورننس ٹھیک کرنا چاہتا ہو،وہ کیسے ٹھیک کرو گے دس سال خیبر پختونخواہ میں رہے،چار سال وفاق میں رہے ہو،چار سال پنجاب میں رہے ہو تو گورننس ٹھیک کرنے کا مطلب فرح گوگی اور پنکی پیرنی کے حوالے ملک کی گورننس کر دو گے تو گورننس ٹھیک ہو جائے گی جو تم نے کی،پھر کہا میں معیشت ٹھیک کروں گا وہ معیشت جو تم نے دس سال کے پی کے م ٹھیک نہیں کی ،25ہزار کا قرضہ44ہزار ارب پر لے گئے یہ تم نے اس دس نکاتی ایجنڈے میں ڈالا تھا ۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ گاوہ شخص جس نے دونوں ہاتھوں سے پرائیویٹ جیٹس کے اندر پیسے بھیجے اور پیسے منگوائے اور کہتا ہے منی لانڈرنگ پر قابو پائیں گے،190ملین بند لفافے میں کابینہ سے منظور کروائے اس کا جواب دے ،کہتا ہے منی لانڈرنگ پر قابو پائیں گے ،مہنگائی کی شرح جو نواز شریف کے دور میں 2فیصد تھی اس کو تم 16سے18فیصد تک لے گئے،دس سال خیبر پختونخواہ میں رہے اور بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ دس نکاتی ایجنڈا دیتے ہو ،عوام کو پاگل سمجھا ہوا ہے،عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھا ہوا ہے کون سا تم دس سال میں تعلیم،صحت کا سونامی لے آئے ہو ،کون سا تم نے موٹر ویز کا جال بچھا دیا ہے،کے پی کے اور پاکستان میں لوٹ مار کر کے عوام کو مہنگائی اور بے روز گای میں پھنسا کر ملک کے اندر دہشتگردی واپس لا کر تم دس نکاتی ایجنڈا دے رہے ہو،تمہیں تو اب شرم بھی نہیں آتی اورجو جلسے سوشل میڈیا پر فوٹو شاپ کی نظر ہو جائیں اس شخص کو پتا ہوتا ہے کہ میرا بیانیہ اور میری سیاست دفن ہو گئی ہے اور اب صرف یہ نوٹنکی اس لئے کہ مجھے ٹیریان خان ، فارن فنڈنگ اور توشہ خانہ میں جواب نہ دینا پڑے،پھر کہتا ہے سب کو قانون کی گرفت میں لائوں گا ،پہلے پنکی پیرنی اور فرح گوگی کو قانون کی گرفت میں لے آئو۔انہوں نے کہا کہ عمران خان تمہاری تمام سازشیں نا کام ہو چکی ہیں اب آپ اس ملک میں نہ سلیکٹ ہو کر آ سکتے ہیں اور نہ ہی ایلیکٹ ہو کر،آپ کا سیاہ دور پاکستانیوں پر قیامت بن کر گزرا ہے،آپ جھوٹ اور سازشی بیانیہ اور پراپیگنڈا کر کے کبھی لسبیلہ کے ہیلی کاپٹر کی سازش کر کے ان کے خلاف مہم چلائی یہ سازشیں نا کام ہو چکی ہیں ۔
وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان کو اس وقت ہیومن رائٹس کی خلاف ورزیاں یاد آ گئیں جو دوسروں کی بہنوں اور بیٹیوں کو گھسیٹ کر جیلوں میں ڈالتا تھا جو طیبہ گل کو اغوا کر کے وزیر اعظم ہائوس میں رکھ کر اور نیب کے چیئرمین کو ویڈیو دکھا کر سیاسی مخالفین پر جھوٹے مقدمات بناتا تھا اور مہینوں اور سالوں جیل میں رکھتا تھا اور ان سب کو میرٹ پر عدالتوں سے ضمانت ملی،جو باپ کے سامنے بیٹی کو ہتھکڑی لگواتا تھا اب اس کو ہیومن رائٹس کی خلاف ورزیاں یاد آ گئی ہیں ،جو عورتوں کو کہتا ہے کہ وہ کپڑے اس طرح سے پہنتی ہیں اس لئے ان کا ریپ ہوتا ہے،اپنے آپ کو دیکھو اور خط لکھتا ہے اقوام متحدہ کو،پولیس والوں کے سر پھاڑنے والا،ان کے اوپر پٹرول بم پھینکنے والا دہشتگردی کرنے والا وہ ہیومن رائٹس کی بات کرتا تھا۔مریم اورنگزیب نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت تم اپنی انا اور تکبر میں تھے اس وقت تمہارا کیا خیال تھا کہ تمہار اقتدار کبھی ختم نہیں ہو گا۔ہیومن رائٹس والوں نے ہی رپورٹس لکھی ہیں کہ تم تاریخ کے بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے تھے اور تم اپنے ورکرز کی لاشوں کا انتظار کرتے ہو اور اس پر سیاست کرتے ہو ،جو کہتا تھا کہ امریکہ نے میری حکومت گرائی ہے وہ آج کشکول لے کر یو این کے سامنے کھڑا ہے کہ مجھے بچائو،ان سب اداروں کو تمہارے بارے میں پتا ہے کہ تم کون ہو،تمہاری فاش ازم اور بدترین سیاسی انتقام جس کے تحت تم نے اپوزیشن کو جیلوں میں ڈال کر ملک کو لوٹا ہے اور ملک کے خزانے اور معیشت کو تباہ کیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ نواز شریف کے ساتھ فواد حسن فواد اور شہباز شریف کے ساتھ احد چیمہ تھے کو جیل میں ڈال کر بیورو کریٹس کو پیغام دیاگیا اور چار سال میں آپ نے جو بیورو کریٹس کے ساتھ کیا اس کا نقصان عوام اور ملک بھگت رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے صدر مملکت عارف علوی کو خط لکھا ہے کہ وہ اپنے آئینی منصب کا مذاق اڑا رہے ہیں،ہیومن رائٹس کی خلاف ورزی صدر کو اس وقت یاد کیوں نہیں آئی جب شہباز شریف کو دو بار جھوٹے مقدمات میں جیل میں ڈالا،جب مسلم لیگ ن کی ساری قیادت کو جھوٹے مقدمات میں جیل میں ڈالا ،جب رانا ثنا اللہ پر ہیروئن کا جھوٹا مقدمہ بنایا،ان کے ڈیتھ سیل میں کیڑیاں چھوڑی گئیں اس وقت صدر کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں یاد کیوں نہیں آئیں جب لکھتے قلم ٹوٹ جاتے تھے اور ٹی وی پر چلتے پروگرام بند ہو جاتے تھے،عرفان صدیقی کو ان کے گھر سے ان کی بیگم کو زخمی کر کے دھکے دیکر گرفتار کیا گیا،گھر کے کرائے کے مقدمے میں جیل میں ڈال دیا،مطیع اللہ ،شکیل الرحمان کو صرف جیل میں اس لئے ڈالا کہ میڈیا کو پیغام ملے کہ وہ اپنا منہ بند رکھیں،ابصار عالم کوپیٹ میں گولیاں ماری گئیں اس وقت انسانی حقوق کہاں تھے ،جب مریم نواز کو اپنے والد کے سامنے گرفتار کر کے نیب میں پیش کیا ۔عارف علوی ہی اس وقت صدر تھے جب قیدیوں کو دوائی اور میڈیکل رپورٹس نہیں دیتے تھے اور ان کا میڈیکل ٹیسٹ نہیں کروانے دیتے تھے اور کہتا تھا کہ میں ان کا پنکھا اور اے سی بند کردوں گا اس وقت صدر کون تھا ۔انہوں نے کہا کہ صدر مملکت اپنے منصب کا خیال کریں،اپنی کرسی اور عہدے کا خیال کریں یہ صدر پاکستان کا عہدہ ہے تحریک انصاف کا نہیں اس فرق کو سمجھیں۔











