ضلع ساہیوال میں آلو کی فصل پر جدید تحقیق کے لیے ادارہ قائم ہے؛ ڈاکٹر اشتیاق حسن

20

فیصل آباد،11 اپریل (اے پی پی ): ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل زراعت (توسیع)و ٹریننگ،پنجاب ڈاکٹر اشتیاق حسن نے کہا ہے کہ  دیگر سبزیوں کی طرح آلو بھی انسانی خوراک کا اہم جزو ہے کیونکہ اس میں وٹامنز،لحمیات، معدنی نمکیات، پانی اور فائبر کافی مقدار میں موجودہیں،دوسری زرعی جناس کے مقابلہ میں آلوکم مدت میں فی ایکڑ زیادہ خوراک پیدا کرنے کی صلاحیت کی حامل فصل ہے، اس اہمیت کے پیش نظر دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح حکومت پاکستان نے بھی ضلع ساہیوال میں آلو کی فصل پر جدید تحقیق کے لیے ادارہ قائم کیا ہے۔

ان خیالات کا اظہارایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل زراعت (توسیع)و ٹریننگ،پنجاب ڈاکٹر اشتیاق حسن نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں پیداواری منصوبہ آلو 2023-24 کی منظوری بارے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ چیف سائنٹسٹ محمد نواز خاں نے آلو کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ غذائیت سے بھر پورہونے کی وجہ سے آلو پاکستان سمیت دنیا بھر میں سٹریٹجک فصل کی حثیت اختیار کر چکا ہے۔اس اہمیت کے پیش نظر ادارہ تحقیقات آلو، ساہیوال کے زرعی سائنسدانوں نے شبانہ روز کاوشوں کے ذریعے بہت کم عرصہ میں 11نئی اقسام متعارف کروائی ہیں جوبدلتے موسمی حالات یعنی کورے کا بہتر طور پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔یہ اقسام پھپوندی، بیکٹیریل اور وائرسی بیماریوں کیخلاف قوت مدافعت کی بھی حامل ہیں۔

چیف سائنٹسٹ ادارہ تحقیقات آلو، ساہیوال،ڈاکٹر سید اعجا ز الحسن نے بتایا کہ گذشتہ سال کی نسبت امسال آلو کے زیر کاشت رقبہ میں اضافہ اور نامساعد موسمی حالات کورے اور پچھیت جھلساؤ کی بیماری کے باعث پیداوار میں کمی نوٹ کی گئی ہے۔

چیئرمین تحقیقاتی بورڈ آلو کے علاوہ سبزیوں اور پھلوں کے ترقی پسند کاشتکار محمد مقصود احمد جٹ نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ کاشتکاروں کی فلاحی تنظیم اور حکومت پاکستان کے تعاون سے 37ممالک میں آلو برآمد کیا جا رہا ہے اور ہر سال آلو کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے جس سے قیمتی زرمبادلہ کا حصول ممکن ہوا ہے انہوں نے ادارہ شماریات پنجاب کے افسران پر زور دیا کہ وہ شماریاتی سروے کے عمل میں وسعت پیدا کر کے پنجاب میں آلو کا کل زیر کاشت رقبہ اور پیداوار کے حقیقی اعداد و شمار جاری کئے جائیں تاکہ ان اعداد و شمار کی روشنی میں ایکسپورٹ میں اضافہ کیلئے جامع پالیسی کو وضع کرنے میں مدد مل سکے۔

اجلاس میں آلو کی کاشت سے لیکر برداشت اور سنھبال تک کے تمام عوامل زیر بحث لائے گئے۔اجلاس میں پیداواری منصوبہ آلو 2023-24 میں جدید تحقیق کی روشنی میں تیارکردہ سفارشات کو شامل کرنے کی منظوری دی گئی اور پیداواری منصوبہ آلو 2023-24 کے معلوماتی کتابچہ کو زرعی توسیعی عملہ کے ذریعے تمام کاشتکاروں کی دہلیز تک پہنچانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔