اسلام آباد۔16جون (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان کے کاروباری اور صنعتی شعبوں کی کارکردگی اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ مسائل حل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی حل اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں غیرمعمولی ترقی نے کاروبار اور صنعت کاروں کے لیے صحت، تعلیم، کاروبار اور صنعت جیسے مختلف شعبوں میں نئے مواقع پیدا کیے ہیں اور پاکستان کی آئی ٹی کمپنیوں کو ان سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے عالمگیر نقطہ نظر کو اپنانا چاہئے۔ صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو ایوان صدر میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایجوکیشن فائونڈیشن کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سولیٹن انویسٹمنٹ فنڈ کے چیئرمین ڈاکٹر منصور علی خان، سولیٹن گروپ کے بانی اور سی ای او ڈاکٹر فوزیہ خان، وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کی نمائندہ اور حکومت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وفد سے بات کرتے ہوئے صدر نے پاکستان کی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اکیڈمی اور صنعت کے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مضبوط اور باہمی طور پر فائدہ مند شراکت داری اہم اقتصادی اور تکنیکی سنگ میل حاصل کرنے میں مدد کرے گی۔ صدر مملکت نے آن لائن کورسز اور قلیل مدتی ایسوسی ایٹ ڈگری پروگراموں کے ذریعے نوجوانوں کو روزگار کے قابل ہنر سے آراستہ کرنے کے علاوہ پاکستان میں ہنر پر مبنی تعلیم کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسٹیک ہولڈرز پر مسلسل زور دیتے رہے ہیں کہ وہ مزید ہنر مند گریجویٹس تیار کریں، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کریں، تیز رفتار فیصلے کریں اور آئی ٹی سیکٹر کے لیے بروقت پالیسیوں کو نافذ کریں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی حل پاکستان کے تقریباً 27 ملین سکول نہ جانے والے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے میں بھی مدد کر سکتے ہیں۔ وفد نے صدر مملکت کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایجوکیشن فائونڈیشن کے بارے میں بتایا جس کا مقصد بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت پر مبنی صنعتی حل کو فروغ دینا ہے۔ وفد نے مصنوعی ذہانت کے متنوع اطلاق اور معیشت کے مختلف شعبوں کے لیے اس کے فوائد پر بھی روشنی ڈالی۔ صدر مملکت نے مقامی یونیورسٹیوں کے ساتھ شراکت میں پاکستان میں مصنوعی ذہانت کو فروغ دینے پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایجوکیشن فائونڈیشن کو سراہا اس پر زور دیا کہ وہ اپنے کام کی رسائی اور دائرہ کار کو وسیع کرنے پر توجہ دیں۔











