اسلام آباد،25جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ قوانین عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اور عملی ہونے چاہئیں ، سزائوں میں اضافے کی بجائے قوانین کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، سزائیں بڑھانے سے جرائم کم نہیں ہوں گے۔
منگل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مختلف سینیٹرز کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے خود کہا تھا کہ جن پوزیشنوں پر سیاسی تقرریاں ہوئی ہیں انہیں تبدیل کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ غیر معمولی صورتحال میں نگراں انتظامیہ کو جاری امور میں فیصلوں کا اختیار دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ حال ہی میں جو معاہدہ ہوا ہے اس میں حکومت پاکستان کی کمٹمنٹس کو جاری رکھنا ضروری ہے۔
وزیر قانون نے کہا کہ ٹو اے اسی مقصد کے لئے متعارف کرایا کیونکہ ریاست کے نظام کو تین ماہ تک معطل نہیں رکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی رپورٹ سب کے ساتھ شیئر کی گئی ہے، ہم نے سینیٹر سید علی ظفر سے بھی کہا تھا کہ وہ اپنی تجاویز ٹیلی فون پر بھی دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوانین عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اور عملی ہونے چا ہئیں ، ہمیں طریقہ کار بہتر بنانے کی ضرورت ہے، سزائیں بڑھانے سے جرائم کم نہیں ہوں گے، جرم کو روکنے والے اقدامات کرنا ہوں گے، 25 سال ہو گئے ہیں قانون کو بنے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں منشیات پر عمر قید کی سزا کا قانون رائج ہے، ہمارا موقف یہ ہے کہ نظام کو بہتر کیا جائے اور عملی قوانین متعارف کرائے جائیں۔
قبل ازیں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر ڈاکٹر زرقہ تیمور سہروردی نے کہا کہ ہم سب کو قابل عزت سمجھتے ہیں، صرف ہمارا کردار اور اخلاق ہمیں مختلف کرتا ہے کہ ہم کون ہیں، 50، 50 سال سے سیاست میں رہنے والے لوگ جو الفاظ استعمال کر رہے ہیں وہ قابل افسوس ہے، ہم پارلیمان کا حصہ ہے اور ہمیں بہتر روایات شروع کرنی چاہیئں۔
سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ قانون سازی کا طریقہ یہ ہے کہ جس کے ووٹ زیادہ ہیں، وہ بل منظور ہو جائے گا مگر اختلافی رائے کو سننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد منشیات بل میں 5-6 کلو گرام منشیات کو سزائے موت نہیں دی جا سکے گی، پاکستان میں 90 لاکھ افراد منشیات استعمال کر رہے ہیں، ہمارے بچے تباہ ہو رہے ہیں، بہاولپور یونیورسٹی میں چیف سیکورٹی آفیسر عزتوں کا لٹیرا بن کر سامنے آیا ہے اور ان سے منشیات بھی برآمد ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک ایک بھی مجرم منشیات پر سزائے موت نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات فروشوں کو سزائے موت دی جانی چاہیے۔
سینیٹر رضا ربانی نے رولز کا حوالہ دیتے ہوئے نشاندہی کی تھی کہ قانون سازی کے لئے درست طریقہ کار اختیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو ترامیم ہو رہی ہے اس کے لئے ٹائم دینا چاہیے۔ سپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ رضا ربانی نے ترامیم کے لئے ایک دن کی بات کی ہے جس پر ایجنڈا موخر کر دیا ہے، میری گزارش ہو گی کہ ہائوس میں اچھی قانون سازی کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے، بل کی کاپیاں سرکولیٹ کی جائیں گی۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ سیکشن 230 کے حوالہ سے نکات سامنے آئے، سیکشن 230 کے حوالے سے کوئی مباحثہ نہیں ہوا تھا، مگر اب معلوم ہوا ہے کہ اس کو ترامیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ سینیٹر سید علی ظفر نے کہا کہ الیکشن ایکٹ بارے کمیٹی میں خوش اسلوبی سے مباحثہ ہوا، امید تھی کہ جو فیصلے کمیٹی میں ہوئے ہیں صرف وہی شقیں یہاں پیش ہوں گی، مگر آرٹیکل 2A جیسی ترامیم پیش کی جا رہی ہے جس پر ہمیں افسوس ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نگران سیٹ اپ کو نیوٹرل ہونا چاہیے۔ اس سیٹ اپ کو طویل المعیاد بنیادوں پر ملک چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، نگراں سیٹ اپ مالی کمٹمنٹ نہیں کر سکتی مگر ترمیم میں کہا گیا ہے کہ نگران سیٹ اپ طویل المعیاد فیصلے کر سکتی ہے، ہمیں قوم کے مفاد میں قانون سازی ہونی چاہیے۔











