سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس، پاکستان کی برکس کی رکنیت کی کوششوں بارے بریفنگ دی گئی

20

اسلام آباد،8ستمبر(اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس جمعہ کو سینیٹر فاروق حامد نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے برکس میں مکمل رکنیت حاصل کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کے حوالے سے جامع بریفنگ دی

 انہوں نے برکس کی تاریخ اور مقاصد پر روشنی ڈالی جس میں حال ہی میں سعودی عرب، یو اے ای، ارجنٹائن، مصر اور ایتھوپیا جیسے ممالک کو رکنیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برکس کی توسیع اراکین کے اتفاق رائے پر منحصر ہے، پاکستان بین الاقوامی مالیاتی ڈھانچے کی تشکیل نو اور ڈالر پر انحصار کم کرنے کے اپنے اہداف کی وجہ سے اس گروپ میں شامل ہونے کے امکانات کو فعال طور پر تلاش کر رہا ہے۔ وزارت خارجہ نے برکس میں پاکستان کے داخلے کو ہموار کرنے کے لیے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کیا ہے۔

اجلاس میں سینیٹرز کی جانب سے برکس میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے بھارت کی جانب سے ممکنہ ویٹو کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے یقین دلایا کہ اس طرح کے ویٹو کا سہارا لینے والا کوئی بھی رکن گروپ کے اندر اپنی حیثیت کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ کسی بلاک پالیٹیکس میں ملوث نہیں ہوگا جس کا مقصد تمام اقوام کے ساتھ مثبت تعلقات رکھنا ہے۔

 امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے روس اور یوکرین کی صورتحال جیسے تنازعات کے عالمی اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے موجودہ دنیا کے باہمی ربط کے پیش نظر تمام اقوام کے ساتھ مثبت تعلقات برقرار رکھنے کی پاکستان کی پالیسی پر زور دیا۔

 کمیٹی کے چیئرمین کے استفسار پر وزیر خارجہ نے کہا کہ برکس میں رکنیت پاکستان کو ایک اہم بین الاقوامی فورم پر نمائندگی دے گی اور رکن ممالک کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو آسان بنائے گی۔

چترال میں ٹی ٹی پی کے حالیہ حملے اور اس کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وزیر خارجہ نے یقین دلایا کہ صورتحال قابو میں ہے، پاکستان افغان عبوری حکومت کے ساتھ فعال طور پر مصروف عمل ہے، ہمارے سفیر اس معاملے کو حل کرنے کے لیے افغان حکام سے ملاقات کر رہے ہیں، انہوں نے افغان ہم منصبوں کے ساتھ مسلسل بات چیت کے ذریعے ایسے حالات کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اظہار کیا۔

مختلف ممالک میں تعیناتیوں کے معیار کے ساتھ ساتھ نان کیرئیر سفیروں اور ہائی کمشنرز کے لیے تقرری کی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ نان کیرئیر تقرریوں کے لیے 20 فیصد کوٹہ ہے جس پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔

نان کیرئیر ڈپلومیٹس کے انتخاب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت مخصوص معیار یا قواعد کے بغیر موزوں ہونے کو ترجیح دیتی ہے۔

اجلاس میں سینیٹرز مشاہد حسین سید، زرقا سہروردی تیمور، پلوشہ محمد زئی خان، مولانا عبدالغفور حیدری، ولید اقبال اور محمد طاہر بزنجو کے علاوہ نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی اور وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔