چترال، 11اکتوبر ( اےپی پی): چترال کے تاریخی قصبے دروش میں اوسیک کے مقام پر دریائے چترال پر آر سی سی پل کی تعمیر مکمل ہو گئی۔ اس سے پہلے اوسیک میں دریا پر لکڑیوں کا بنا ہوا ایک پرانا پل تھا جو نہایت حطرناک ہوچکا تھا اسی جگہ ماضی میں متعدد حادثات پیش آنے میں کئی قیمتی جانیں بھی ضائع ہوچکی ہیں۔ اوسیک میں دریا سے اُس پار افغانستان کے سرحد تک درجنوں دیہات میں ہزاروں لوگ رہتے ہیں۔ مگر اس دریا پر جیپ ایبل پل نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ نہ تو گھر کا سامان اس پرانے پل پر لے جاسکتے تھے اور نہ اس پر مال بردار گاڑی گزرسکتی تھی۔ یہاں کے لوگ جلانے کی لکڑی اور دیگر بھاری سامان اکثر اس پل کے اس پار گاڑی سے اتارنے پر مجبور تھے اور صرف ہلکا گاڑی اس پر گزرسکتا تھا۔ اب اس دریا پر آر سی سی یعنی سیمنٹ کا پکا پل بن گیا تو یہ لوگ بھاری مشینری اور مال بردار گاڑی بھِی اس پر آسانی سے لے جاسکیں گے۔محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ایگزیکٹیو انجنییر طارق مرتضی کے مطابق اس پل کی لمبای بانوے میٹر، چوڑی سات میٹر اور اونچای تیرہ میٹر ہے جو ایک سو دو ملین کے لاگت سے تعمیر ہوا۔ اس پل کا ٹینڈر سال 2016 میں ہوا تھا مگر اس کا راستہ ایک سرکاری باغ میں گزرنے کی وجہ سے رکاوٹ بنی اب اس کا راستہ وہاں جانے کی بجائے اسے موڑ کر پل کے دائیں جانب سے گزارا گیا۔ اس پل کی تعمیر پر علاقے کے لوگوں می خوشی کی لہر دوڑ گئی اور وہ اپنی خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔
قاری جمال ناصر، آفتاب احمد خان،محمد احتشام ایڈیشنل چیف وارڈن سول ڈیفنس، مولانا خان شیرین، اور دیگر لوگوں نے ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہویے کہا کہ اس پل کی تعمیر سے یہاں کے ہزاروں لوگوں کی زندگی میں اب آسانی پیدا ہوگی جو اس دریا سے اس پار رہتے ہیں کیونکہ ماضی میں یہاں کے لوگ اپنا سامان جب گھر لے جاتے تو اس پرانے پل پر مال بردار گاڑی نہیں گزرسکتی اور لوگ سامان اتار کر کندھوں پر لے جانے پر مجبور تھے۔ اب چونکہ ار سی سی پل بن گیا تو اس علاقے میں بہت زیادہ معدنیات، جنگلات اور دیگر قدرتی وسایل موجود ہیں جن کو نکالنے اور یہاں لانے کیلیے بھاری مشینری بھی جاسکے گی۔
تعمیراتی کمپنی کے نمائندے اسمار خان نے بتایا کہ اب اس میں تھوڑا سا کام باقی ہے۔ چونکہ یہ پل دریا پر بنا ہے مگر یہاں آنے والا سڑک بہت اونچائی سےآیا ہوا ہے۔ اب اس سڑک کے کنارے حفاظتی دیوار اور سڑک پر شولڈر بھی بنیں گے تو اس سے یہ سڑک اور پل نہایت محفوظ ہوگا اور لوگ بغیر کسی خطرے کے اس پر سفر کرسکیں گے۔ اس علاقے کے عمائدین نے بھی ٹھیکدار اسمار خان کی بے حد تعریف کی کہ انہوں نے نہایت ایمانداری سے کام کیا کیونکہ اس سے پہلے جو ٹھیکدار نے اس کا ٹھیکہ ٹینڈر مِیں لیا تھا اس نے کام شروع نہیں کروایا تھا اور اس لالچ میں تھا کہ اس کا نرخ مزید بڑھے گا تو اسے زیادہ فائدہ ہوگا جس پر محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس یعنی سی اینڈ ڈبلیو نے اس کا سیکورٹی فنڈ ضبط کیا۔ اب اسمار خان نے نہایت معیاری کام بہت تیزی سے کیا ۔۔
اوسیک کے مقام پر دریائے چترال پر اس پل کی تعمیر ہونے سے اب سیاح بھی آسانی سے وادی جنججیریت کوہ میں صدیوں پرانے تاریخی مقامات اور قلعے دیکھنے کیلیے اس پر بغیر کسی خطرے کے سفر کرسکیں گے جس سے سیاحت بھی فروغ پائے گی اور سیاحت کو فروغ دینے سے یہ علاقہ بھی ترقی کرسکے گا۔











