لاہور،25نومبر (اے پی پی):وزیر اعلی محسن نقوی نے اٹک، میانوالی، جھنگ، منڈی بہائوالدین اور بھکر میں ایف سی پی ایس ٹریننگ شروع کروانے کا اعلان کیا اور مزید پانچ ضلعی ہسپتالوں میں ایف سی پی ایس ٹریننگ کے لے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔
کالج آف فزیشن اینڈسرجنز پاکستان کے کانووکیشن کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ یہ ملک کہیں نہیں جارہا، پاکستان جلد ٹیک آف کرتا نظر آئے گا۔مایوسی گناہ ہے، اکانومی سے متعلق بڑی اچھی خبریں آرہی ہیں۔ نہ خود مایوس ہوں اور نہ دوسروں کو کریں، ہمیشہ پرامید رہے۔ انہوں نے بتایا کہ انتہائی نگہداشت کے ڈاکٹرز فوری بھرتی کرنے کے لئے احکاما ت دیئے۔ ایمرجنسی میڈیسن ڈیپارٹمنٹ تما م بڑے ہسپتالوں میں ہونا چاہیے۔کوشش ہے ہر ہسپتال میں کریٹیکل کیئر کا شعبہ ہو،انشاء اللٰہ چند ہسپتالوں میں شروع کرواکر جائیں گے۔ انڈس ہسپتال جوبلی ٹائون میں سٹیٹ آف آرٹ کینسر ہسپتال31 جنوری تک فنکشنل ہوجائے گا۔ مناواں میں بھی میو کینسر کلینک کے نام سے 31جنوری تک فنکشنل ہو جائے گا۔
وزیر اعلی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نئے ہسپتال بنا دیئے جاتے تھے اور پرانے ہسپتالوں کی حالت بد سے بدتر ہوجاتی ہے،میو، نشتر، ہولی فیملی اس کی مثال ہیں۔ بعض ہسپتالوں کی حالت اتنی خستہ تھی بندہ پریشان ہوجاتا ہے مریض کا علاج کیسے کریں گے۔ نئے ہسپتال بنانے کی بجائے موجود ہسپتالوں کو بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ وزیر اعلی نے کہا کہ 22بڑے ہسپتالوں سمیت پنجاب بھر میں 100 ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن کی جارہی ہے۔ہم شعبہ صحت پر 100ارب روپے لگا رہے ہیں ،ہسپتال ٹھیک ہوجا ئیں گے لیکن چلانا پھر بھی ڈاکٹروں نے ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم لوگ چلے جائیں گے، ہسپتال یہی رہیں گے اور آپ لوگ موجود رہیں گے۔ شعبہ صحت اسی صورت میں ہی ٹھیک ہوسکتا ہے جب ہمارے ڈاکٹرز نیک نیتی کے ساتھ ہسپتالوں کی اونر شپ لیں گے۔ ہسپتالوں کی اسی طرح اونرشپ لیں جسطرح آپ اپنے گھروں کی لیتے ہیں۔ اگر ڈاکٹرز ہسپتال کی اونر شپ لے لیں تو ہسپتال بھی ٹھیک ہوجائیں گے اور شعبہ صحت بھی بہتر ہوگا۔ ڈاکٹر وں کی کمی نہیں، ڈاکٹرز کو ہسپتال کی اونرشپ لینے کی ضرورت ہے۔ 60سے 70فیصد ڈاکٹر محنت سے کام کررہے ہیں اور اونر شپ بھی لیتے ہیں۔
وزیر اعلی نے کہا کہ رزق حلال کے دو تقاضے ہیں کہ ناجائز پیسہ نہیں کمانا اور اپنی تنخواہ کو حلال کرنا ہے۔ کوئی اگر 6گھنٹے کی تنخواہ لے رہا ہے اور کام تین گھنٹے کررہا ہے تو یہ رزق حلال کمانا نہیں ہے۔ کچھ ڈاکٹرز اپنے ڈیوٹی اوقات سے بڑھ کر کام کرتے ہیں اور کچھ ڈیوٹی کا ٹائم پورا نہیں کرتے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں ڈاکٹرز کی کمی نہیں،جہاں کمی ہو تو پورا کرنے کے لئے فوری اقدامات کرتے ہیں۔حکومت نے اپنی ذمہ داری نبھانی ہے اور ڈاکٹرز نے اپناکام کرنا ہے۔شعبہ صحت کے بہت سے معاملات میں بہتری آئی، انشاء اللٰہ آنے والے دنوں میں مزید بہتری آئے گی۔پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل کا پاکستان کی ایف سی پی ایس ڈگری کو عالمی سطح منظور کرانا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ کابینہ میں 8وزیر ہے جن میں 2ڈاکٹر ہیں، ڈاکٹر وزیر کا بینہ پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
صوبائی وزیر جمال ناصر نے کہا کہ محسن نقوی جیسے چیف منسٹر کا وزیر ہونا قابل فخر ہے۔محسن نقوی نے شعبہ ہیلتھ نئی تاریخ مرتب کر دی۔صوبائی وزیر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ وزیر اعلی محسن نقوی ہیلتھ کے کسی پراجیکٹ سے انکار نہیں کرتے بلکہ پوری دلچسپی لیتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے کہا کہ آج کل شعبہ ہیلتھ میں سالوں کے کام مہینوں میں اور مہینوں کے کام ہفتوں میں ہورہے ہیں۔
کونسل آف فزیشن آف سرجنز کے صدر پروفیسر خالد مسعود گوندل نے کامیاب امیدواروں سے فیلو شپ کا حلف لیا۔ وزیر اعلی محسن نقوی نے ایف پی سی ایس میں گولڈ میڈل اور میڈیکل ایجوکیشن ڈپلوما تقسیم کیے۔
آرتھو پیڈک سرجری میں زیڈ کے قاضی گولڈ میڈل ڈاکٹر خلیل فاروق، کارڈک سرجری کا ایم آر کیانی گولڈ میڈل ڈاکٹر وقاض شاہدو، پیڈیاٹیرک ڈاکٹر جمال بھٹہ گولڈ میڈل، ڈاکٹر ارشد محمود اور کارڈیالوجی میں اظہر مسعود فاروقی میڈل، ڈاکٹر فرحان شبیر کو دیا گیا۔ پروفیسر رمیزہ محمود ملک، ڈاکٹر ابوبکر سعید، ڈاکٹر عامر فرقان، پروفیسر سما حیدر اور ڈاکٹر فائزہ کو میڈیکل ایجوکیشن ڈپلوما دیا گیا۔
صوبائی وزراء، سیکرٹریز، میڈیکل پروفیسرز، ڈاکٹرز اور طلبہ نے کاونوکیشن میں شرکت کی۔











