مظفر آباد،15دسمبر (اے پی پی):نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ہماری دفاعی صلاحیت کی وجہ سے کسی میں جرات نہیں کہ پاکستان کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق استصواب رائے کے سوا مسئلہ کشمیر کا کوئی حل قبول نہیں۔
جمعہ کو یہاں آزادجموں و کشمیر کی جامعات کے طلباوطالبات کے ساتھ گفتگوکرتےہوئے نگران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 24 کروڑ ہے اور 60 سے 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ بیرون ملک مقیم کشمیری تحریک آزادی کا اہم حصہ ہیں۔ معاشی مواقع پیداکرنے کے لئے مربوط لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ حصول روز گار کے لئے بیرون ملک جانے والوں کو منفی انداز میں نہیں لینا چاہیے۔ نوجوانوں کو علم ہونا چاہئے کہ وہ جس شعبے کی تعلیم حاصل کررہے ہیں اس کی عملی میدان میں کتنی اہمیت ہے، معیاری تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ یکساں نصاب تعلیم سنجیدہ معاملہ ہے اور یہ چیلنج بھی ہے ، اس پر تفصیلی غور وخوض کر کے عملدرآمد ہونا چاہیے، سنجیدہ بحث سے ہی ہم کسی نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فزیو تھراپی کونسل اور نرسنگ کونسل کے حوالے سے جو بھی معاملات ہیں آزاد کشمیر کی حکومت سے اس پر بات کریں گے۔ میڈیکل کی تعلیم کے حوالے سے ایک نئی پالیسی بنائی جارہی ہے، 15 جنوری تک منظوری کے لئے یہ کابینہ میں پیش کی جائے گی جس میں تمام معاملات کا حل دیاجائےگا۔
وزیراعظم نے کہاکہ نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کو دنیاکی سب سے بڑی جیل بنادیا ہے، لوگوں کی نقل و حرکت اور ایک دوسرے کے ساتھ ملنے پر پابندی ہے۔ یہ تمام مسائل اس وقت حل ہوں گے جس وقت مسئلہ کشمیر کاحتمی حل نکلے گا۔ اس حتمی حل کے بعد سب کے لئے آسانیاں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ کوریڈور ز کی اپنی اہمیت ہے لیکن ا س میں بھارت ایک بڑا اور ظالم فریق ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کاحتمی حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے ہے۔کشمیری عوام ،پاکستان اور بھارت اس مسئلے کے سب سے بڑے فریق ہیں، استصواب رائے کے سوا کوئی حل قابل قبول نہیں ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق آزاد کشمیر کی قیادت اور حریت رہنمائوں کے ساتھ طویل مشاورت ہوئی ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم نے بھر پور توانائی کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا ہے۔ کشمیری قیادت ،بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور دیگر طبقات کو کس طرح متحرک کیا جائے گا ،اس کے عملی اثرات جلد نظر آئیں گے۔
این ایس، اسلام آباد
وزیراعظم نے کہا کہ میں نے غزہ کو ایسا مقام قرار دیا ہے جہاں بچوں کے ساتھ ہولوکاسٹ ہو رہا ہے، اسرائیلی جنگی جرائم کا تذکرہ ہم نے ہر جگہ کیا ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے، اسرائیل جو مظالم ڈھا رہا ہے انسانی تاریخ میں اس کی مثال شاذونادر ہی ملتی ہے، حضرت موسیٰ کے پیروکار ہونے کے دعویدار فرعون بنے ہوئے ہیں، اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، اسرائیلی فوج بچوں اور خواتین کو نشانہ بنا رہی ہے۔
پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی سے متعلق سوال کے جواب میں نگران وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے ایک بھی افغان پناہ گزین کوواپس نہیں بھیجا، 50 لاکھ افغان پناہ گزین پاکستان میں مقیم رہے ہیں، ان میں سے 16 سے 17 لاکھ کی رجسٹریشن کی گئی، ان رجسٹرڈ افراد میں کسی ایک کو بھی واپس نہیں بھیجا گیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ لاکھوں افراد کے پاس کوئی قانونی دستاویز نہیں تھی اور ہم انہیں تواتر کے ساتھ کہہ رہے تھے کہ وہ اپنے وطن واپس جائیں اور وہاں سے قانونی دستاویز پر پاکستان آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے وسائل اپنے شہریوں پر صرف کرنے ہیں، غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں پر نہیں۔











