الیکشن ایکٹ 2017ء، خلاف ورزی پر  جیل جانے  کے ساتھ بھاری جرمانہ ہو سکتا

15

اسلام آباد،02 فروری(اے پی پی):الیکشن والے دن بہت سے امیدوار اور ان کے حامی ووٹ حاصل کرنے کے لیے مختلف قسم کے طریقے استعمال کرتے ہیں مگر الیکشن ایکٹ 2017ء کے تحت بہت سے ایسے معاملات ہیں جس کی خلاف ورزی پر آپ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانے کے ساتھ ساتھ بھاری جرمانے کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

وہ شہری جو ووٹ ڈالنے کے لیے اہل ہے، مگر انہیں مذہبی، لسانی، صوبائی، برادری یا خواجہ سرا ہونے کی بنیاد پر ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جارہی تو ایسی صورتحال میں قانون کے مطابق الیکشن عملہ جامع تحقیقات کرنے کے بعد ملوث افراد کو تین سال تک قید کی سزا یا ایک لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دینے کا مجاز ہے۔

الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 168 کے مطابق اگر کوئی شخص یا امیدوار کسی ووٹر کو ذاتی طور پر ووٹ ڈالنے یا ووٹ نہ ڈالنے کے بدلے میں رشوت، نوکری سمیت کسی قسم کی بھی سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کرے، کوئی امیدوار کسی دوسرے کے حق میں دستبردار ہو جائے یا رشوت لے کر ریٹائرمنٹ کا اعلان کرے اور یہ ثابت ہوجائے تو اس شخص کو بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑ سکتا ہے یا اس پر بھی جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔دو سال تک قید، ایک لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ ہوسکتی ہیں۔