کشمیری عورت ، جرات و ہمت اور استقامت کا استعارہ

18

 

اسلام آباد،04 فروری (اے پی پی ):  تحریکِ آزادی  کشمیر کی تاریخ خاصی طویل ہے اور اس تحریک میں جہاں لاتعداد نوجوانوں ، بزرگوں اور بچوں کا لہو شامل ہے وہیں   کشمیر کی خواتین نے بھی اس تحریک کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں ۔

 کشمیر کی  تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو   دہائیوں  سے جاری اس جدوجہد میں یہاں کی صنفِ نازک کا کردار بہت اہم نظر آتا ہے۔جہاں  کشمیری مائیں   آزادی کی اس جدوہد کے لیے دہائیوں سے اپنے بیٹوں میں بے جگری سے لڑنے اور شوقِ شہادت کا جذبہ نسل در نسل منتقل کرتی آ رہی ہیں وہیں  ایسی ہزاروں خواتین  بھی موجود ہیں جن کے شوہر سالوں سے لاپتہ ہیں  جن کے لیے ہاف وڈو  کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

اس عرصے میں ہزاروں خواتین  بے عصمت ہوئیں   اور پیلٹ گنز کا ہدف  بھی بنیں لیکن  عِصمت دری، جنسی ہراسانی اور بھارتی فوج کے ہاتھوں اپنے پیاروں کے شہید اور لاپتا ہونے جیسے بے شمار لرزہ خیز واقعات کی عینی شاہد ہونے کے باوجود یہ اپنی مظلومیت کا رونا رونے کی بجائے کشمیری عورت  جرات و ہمت اور استقامت سے ڈٹی مردوں کے شانہ بشانہ  آزادی کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں ۔