اسلام آباد۔22جون (اے پی پی):قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2024-25 کے وفاقی بجٹ پر بحث تیسرے روز بھی جاری رہی، اس دوران حکومتی اراکین نے بجٹ کو مشکل معاشی اور مالیاتی حالات کے باوجود متوازن اور تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مختلف تجاویز دیں جبکہ اپوزیشن نے بجٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ہفتہ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2024-25 کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے حکومت کی جانب سے صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے صنعتوں کو فروغ ملے گا اور ہماری ایکسپورٹس میں اضافہ ہوگا۔
رکن قومی اسمبلی حمید حسین نے کہاکہ سابق فاٹا میں لوگ امن کامطالبہ کررہے ہیں، لوگ امن کیلئے ترس رہے ہیں۔.امن سے ہی دنیا سے لوگ سرمایہ کاری کیلئے ملک میں آئیں گے۔انہوں نے کہاکہ سابق فاٹا کودس سال کیلئے ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے۔.
سنی اتحاد کونسل کی رکن زرتاج گل نے کہا کہ ہمارے لیڈروں کی سرمایہ کاری بیرون ملک ہوگی تو دوسرے ممالک کے لوگ یہاں کیسے سرمایہ کاری کریں گے۔1500 ارب روپے کا سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام میں شفافیت ہونی چاہیے۔موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان شدید متاثر ہے۔سیلاب سے جانی ومالی نقصان ہورہا ہے۔موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کے لیے صرف 4 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔10 بلین ٹری منصوبہ بند کردیا گیا۔
شہریارمہرنے کہاکہ تنخواہوں میں اضافہ ہوالیکن اس کے ساتھ تنخواہ دارطبقے پرٹیکس میں اضافہ کردیاگیاہے جس سے اضافہ کاتاثرزائل ہواہے۔دفاعی بجٹ میں اضافہ ضروری ہے، کل ہمارے پانچ جوان شہیدہوئے ہیں، ہماری فوج کو سرحدوں کے ساتھ ساتھ ملک میں امن وامان میں حالات پرنظررکھنا چاہئیے۔
کھادوں پرسبسڈی دینے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کی ترقی، پائیدارترقی، اورپاورسیکٹرکے حوالہ سے پالیسیوں میں تسلسل کی ضرورت ہے۔ہمیں جلد سے جلدمہنگی بجلی سے جان چھڑاناہوگی۔
سنی اتحاد کونسل کے رکن شہر یار خان آفریدی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ صدر کے خطاب پر مجھے بحث میں حصہ لینے کا موقع نہیں دیاگیا۔ .پارلیمان کے تقدس کا خیال رکھا جائے،پاکستان کو ایک غیرت مند اور عظیم قوم بنایا جائے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی سید حفیظ الدین نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف اپنے دور حکومت کو بھی دیکھے اس نے کیا کیا۔میں تحریک انصاف کا پہلا ایم پی اے تھا ان کو بہتر جانتا ہوں میں گھر کا بھیدی ہوں لنکا ڈھا دوں گا۔
انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کی وجہ سے وجہیہ الدین،نجیب ہارون اور دیگر پیچھے ہٹے۔ان کے دور میں چوراہوں پر شریفوں کی پگڑیاں اچھالی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مجبوری کا بجٹ ہے ملک کے حالات کے لئے یہی بجٹ ضروری ہے۔ہمیں ملک کے یہیہ کو آگے لے کرجانا ہے۔تنخواہ دار طبقہ پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے۔
حفیظ الدین نے کہا کہ ان لوگوں نے فارم 45 اور 47 کا جھگڑاڈال رکھا ہے۔مجھے علم ہے کیسے سوشل میڈیا پر لوگوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔2018 میں کیسے حکومت حاصل کی یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔











