پاکستان اقوام متحدہ چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے؛ سفیر عاصم افتخار

69

اقوام متحدہ،6 مئی (اے پی پی): اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد  نے بھارت کے حالیہ یکطرفہ اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تصادم کا خواہاں نہیں ہے لیکن ہم اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے پاک – بھارت، اور خطے میں کشیدگی پر غور کے لیے بلائے گئے مشاورتی اجلاس کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ سلامتی کونسل علاقائی امن کو لاحق خطرات کا نوٹس لے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اجلاس میں متعدد ارکان نے جموں و کشمیر کے تنازعہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں، اقوام متحدہ کے چارٹر اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرنے کی ضرورت کو تسلیم کیا۔  ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر تنازعہ 7 دہائیوں سے زیادہ عرصے سے کونسل کے ایجنڈے پر تاریخی آئٹم ہے جو ستر سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی حل طلب ہے۔

سفیر نے کہا کہ بھارت کی جانب سے  بڑھتی ہوئی بیان بازی، فوجی پوزیشن، اور اشتعال انگیز کارروائیوں سے نہ صرف پاکستان بلکہ علاقائی اور عالمی امن کو خطرہ ہے۔

 اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی اقدام پر بریفنگ دی اور  کشمیر تنازع اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی طرف بھی توجہ دلائی۔

اجلاس میں سلامتی کونسل کے 15 اراکین بشمول پانچ مستقل ارکان اجلاس میں شریک ہوئے جس میں بھارت کے اشتعال انگیز بیانات اور امن کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔