اسلام آباد، 12 مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، پروفیسر احسن اقبال نے چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت جاری منصوبوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں وزارت مواصلات، اقتصادی امور ڈویژن، بورڈ آف انویسٹمنٹ، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی،نیشنل ہائی ویز اتھارٹی، کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی(QESCO)،پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل،گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سمیت تمام متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ صوبائی حکومتوں کے افسران نے اجلاس میں آن لائن شرکت کی۔
اجلاس میں مختلف اہم امور پر گفتگو ہوئی جن میں زرعی ٹیکنالوجی ورکنگ گروپس کی تشکیل، پاکستان میں پانچویں JWG اجلاس کی میزبانی، آئندہ JCC اجلاس (جون 2025) کی تیاری، زرعی مشینری کی تقسیم، گوادر کے ڈیسالینیشن پلانٹ کی فعالیت،اور بلوچستان میں 15,000 گھروں میں شمسی توانائی کے یونٹس کی تنصیب شامل تھی۔وزیر احسن اقبال نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ مئی 2025 کے دوران تمام JWG اجلاس مکمل کریں۔
انہوں نے زور دیا کہ چین کی جانب سے دی گئی 12 ارب روپے مالیت کی زرعی مشینری کو 10 دن کے اندر نچلی سطح تک منتقل کیا جائے تاکہ کسان برادری فوری طور پر اس سے مستفید ہو سکے۔پی اے آ ر سی کے مطابق، دی گئی مشینری میں 40 ٹریکٹرز، 40 ملٹی پرپز ہارویسٹرز اور دیگر جدید آلات شامل ہیں۔ یہ ساز و سامان پاکستان کی زرعی صلاحیت اور تحقیق میں انقلابی بہتری لائے گا۔بلوچستان میں چینی تعاون سے جاری سولر لائٹس منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔ وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ 7 اضلاع میں تنصیب مکمل ہو چکی ہے جبکہ باقی 29 اضلاع میں کام جاری ہے۔ وفاقی وزیر نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ تمام 36 اضلاع میں یہ عمل جلد مکمل کیا جائے۔مزید برآں، وزیر نے QESCO، پاور ڈویژن اور وزارت بحری امور کو ہدایت دی کہ گوادر ساؤتھ فری زون تک ٹرانسمیشن لائن کی جلد تکمیل یقینی بنائی جائے تاکہ 1.2 ملین گیلن یومیہ کا ڈیسالینیشن پلانٹ فوری طور پر فعال ہو سکے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے اجلاس کے اختتام پر کہا کہ سی پیک منصوبے پاکستان کی ترقی، غذائی تحفظ، توانائی کی بہتری اور خطے کی خوشحالی کے ضامن ہیں۔ تمام ادارے مقررہ وقت میں اہداف کی تکمیل کو یقینی بنائیں۔











