اسلام آباد، 12 مئی(اے پی پی) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے منصوبہ جاتی خدمات (UNOPS) کی کنٹری ڈائریکٹر اور ان کے وفد سے ملاقات کے دوران بلوچستان کی ترقی کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔ ملاقات کا مقصد پاکستان اور UNOPS کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینا تھا، خصوصاً تجارت، بنیادی ڈھانچے اور جامع اقتصادی ترقی کے شعبوں میں۔
ملاقات کے دوران وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ بلوچستان میں زراعت، خاص طور پر کھجوروں کی کاشت، ماہی گیری اور معدنیات کے شعبے میں بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر، بلوچستان کے مختلف شعبوں میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں، خواتین کو بااختیار بنایا جا سکے اور سرحدی علاقوں میں مقامی کمیونٹیز کو ترقی دی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان تجارت اور ترقی کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ ہم اس صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے انفراسٹرکچر، لاجسٹکس اور ویلیو چین سسٹمز میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جس کا مرکز علاقائی شمولیت اور پائیداری ہے۔
جام کمال خان نے UNOPS کی پاکستان کے لیے خدمات کو سراہا، خاص طور پر مشکل اور دور دراز علاقوں میں ضروری سہولیات کی فراہمی میں۔ انہوں نے ادارے کی اسکولوں میں شمسی توانائی کی تنصیب، پانی کے معیار کی بہتری، سیلاب کے دوران ہنگامی امداد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت کے لیے اقدامات کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
UNOPS کی کنٹری ڈائریکٹر نے حکومت پاکستان کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ادارہ وزارت تجارت اور دیگر قومی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ UNOPS پائیدار تجارت، ماحولیاتی ہم آہنگ لاجسٹکس اور جامع معاشی ترقی کو فروغ دینے والے منصوبوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے وزیر کو UNOPS کے جاری اور آئندہ منصوبوں پر بھی بریفنگ دی، جن میں صحت کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، پلاسٹک کے فضلے کا نظم، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے موسمیاتی لحاظ سے محفوظ تربیتی سہولیات کی تعمیر شامل ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ UNOPS اپنی سرگرمیوں کو پاکستان وژن 2025 اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی تعاون کے فریم ورک 2023-2027 کے مطابق رکھے گا۔
وزیر تجارت جام کمال خان نے UNOPS کے ساتھ ایک مشترکہ کوآرڈینیشن میکنزم قائم کرنے کی تجویز دی تاکہ باہمی ترجیحی منصوبوں کی نشاندہی اور ان پر عمل درآمد کیا جا سکے۔
انہوں نے برآمدی شعبوں جیسے ٹیکسٹائل، آئی ٹی، ہینڈی کرافٹس، زراعت، لائیو اسٹاک، کھجوریں، پھل اور دیگر ممکنہ مواقع میں خواتین اور چھوٹے کاروباروں کی شمولیت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ملاقات کا اختتام دونوں فریقین کے اس عزم کے ساتھ ہوا کہ وہ ملک کے کم ترقی یافتہ علاقوں، خصوصاً بلوچستان، میں ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔
وزیر نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ UNOPS کے ساتھ یہ شراکت داری برآمدات پر مبنی ترقی اور جامع خوشحالی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔











