اقوام متحدہ، 29 مئی (اے پی پی):اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے،قدرتی آفت نہیں، انسان ساختہ تباہی ہے۔اسرائیل کا غیر قانونی محاصرہ، شدید بمباری اور قتلِ عام،مکمل استثناکے ساتھ جاری ہے۔
مشرق وسطیٰ، بالخصوص فلسطینی مسئلے پر ہونے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بریفنگ کے دوران اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ غزہ ہمارے دور کا بدترین انسانی بحران ہے۔غزہ میں اب تک 54 ہزار فلسطینی شہید، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے اور زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 22 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ اب تشویش کے الفاظ کافی نہیں،اب نسل کشی روکنے کا وقت آ چکا ہے۔
سفیر نے بتایا کہ غزہ کی صحت کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے،ہسپتال ایندھن اور ادویات سے محروم ہے،800سے زائد اسپتال اور طبی مراکزاسرائیلی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، اس کے علاوہ غزہ میں قحط حقیقت بن چکا ہے، کم از کم 57 بچے بھوک سے جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 80 فیصد سے زائد مکانات تباہ، پانی، بجلی اور مواصلات کا نظام مفلوج ہو چکا ہے پاکستان نے اس سنگین صورتحال پر چار فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے؛ پہلا مطالبہ یہ کہ فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کی اپیل کی جائے۔ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ غزہ کی ناکہ بندی کا مکمل خاتمہ، امدادی رسائی کو یقینی بنایا جائے جبکہ تیسرا مطالبہ ہے کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو مکمل طور پر مسترد کیا جائے اور چوتھا مطالبہ ہے کہ طویل قبضے اور حقِ خود ارادیت کی محرومی کا خاتمہ ضروری قرار دیا۔
سفیر کا کہنا تھا کہ غزہ کی پکار کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،دنیا مزید بے عملی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔











