لاہور، 29مئی (اے پی پی):وزیر زراعت و لائیو سٹاک پنجاب سید عاشق حسین کرمانی سے بن وارنگٹن، ہیڈ آف لاہور آفس،برٹش ہائی کمیشن نے ملاقات کی۔
اجلاس میں زراعت و لائیو سٹاک کے شعبوں میں کسانوں کی معاونت کے ماڈل، موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز ،یونیورسٹیوں کے باہمی روابط ،بریڈ امپروومنٹ اور ایف ایم ڈی کنٹرول پروگرام بارے دو طرفہ کام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیر زراعت و لائیو سٹاک نے کہا کہ پنجاب زراعت کے سیکٹرمیں برطانیہ کی مالی امداد و اعانت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ہم لائیو سٹاک کے شعبہ میں برطانیہ کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر زراعت پنجاب نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا فوکس زراعت و لائیو سٹاک سیکٹر کی ترقی پر مرکوز ہے۔ پچھلے ایک سال کے عرصے میں کسان کارڈ اور لائیو سٹاک کارڈ کے ذریعے میکرو لیول پر کسانوں کےلئے خطیر رقم سے بلا سود فنانسنگ کی گئی۔وزیر زراعت نے کہا کہ ان عملی اقدامات سے کسانوں کو مڈل مین کے استحصال سے چھٹکارا مل گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 400ارب روپے کی خطیر رقم سے “ٹرانسفارمنگ پنجاب ایگریکلچر پروگرام “پر عملدرآمد جاری ہے۔ حکومت زرعی شعبہ میں میکناایزیشن،مؤثر آبپاشی کے نظام،کوالٹی سیڈ کی فراہمی اور ریسرچ سینٹرز کے قیام پر ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد فصلوں کی پیداواری لاگت کو کم کرکے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔
سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ سموگ کے ایشو پر موثر کنٹرول پانے کے لیے حکومت نے سبسڈی پر کسانوں کو 5ہزار سپر سیڈرز فراہم کئے ہیں۔ حکومت نےکسانوں اور سروس پروائیڈرز کے لیے ہائی ٹیک میکناائزیشن کے لیے لون پروگرام شروع کیا ہے۔ سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ حکومت پہلی دفعہ لائیو سٹاک سیکٹر میں بریڈ امپروومنٹ (ملکِ بریڈ،میٹ بریڈ) پروگرام کو صوبہ کے 10اضلاع میں شروع کرنے جا رہی ہے ۔وزیر زراعت پنجاب نے کہا کہ ایف ایم ڈی کنٹرول کے موثر کنٹرول کے لیے اگلے مالی سال کے بجٹ میں 2زونز اور 5کمپارٹمنٹس بنانے جا رہے ہیں ۔ بن وارنگٹن نے پنجاب میں اصلاحاتی ایجنڈا کے تحت زراعت میں ترقی کے عمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم پنجاب کے کسانوں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کو حل کرنے میں سنجیدہ ہیں۔











