اسلام آباد، 03 جون (اے پی پی): پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں اعلیٰ سطحی پاکستانی پارلیمانی وفد نے اقوام متحدہ میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے مستقل مندوبین کو جنوبی ایشیا میں بھارت کی حالیہ عسکری جارحیت اور پہلگام حملے کے بعد پاکستان پر عائد کیے گئے بے بنیاد الزامات کے تناظر میں سنگین صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں او آئی سی کے سفیروں کو دوٹوک انداز میں بتایا کہ بھارت کی جانب سے بغیر کسی قابلِ اعتبار تحقیق یا شواہد کے پہلگام واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کے الزامات کو بھارت نے سرحد پار غیر قانونی عسکری کارروائیوں، جن میں عام شہری اور سول تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کیا۔
انہوں نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور معاہدہ جاتی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی اور پانی جیسے بنیادی انسانی حق کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش ہے، جسے کسی صورت “نیا معمول” تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
بلاول بھٹو زرداری نے او آئی سی نمائندوں پر واضح کیا کہ بھارت کی جنگجویانہ پالیسیوں نے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کو ایک کم محفوظ جگہ بنا دیا ہے، اور اس کے فوری اور حقیقی اثرات خطے کے امن و استحکام پر مرتب ہو رہے ہیں۔
وفد نے او آئی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر مؤثر سفارتی کردار ادا کرے اور بھارت کو اس کے غیر قانونی اور اشتعال انگیز اقدامات سے باز رکھنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ بڑھائے۔











