وفاقی بجٹ متوازن ہے، بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان سے رابطے میں ہیں: صدر ایف پی سی سی آئی

14

اسلام آباد، 10 جون (اے پی پی): فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام نے وفاقی بجٹ 2025-26 کے مشاہدے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان سے رابطے میں ہیں اور یہاں کام کرنے کی خواہشمند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبے پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کی غذائی ضروریات خودکفالت کی سطح پر پوری کی جا سکیں۔ توانائی کے شعبے میں انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) سے متعلق حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس جانب مؤثر کام کیا گیا ہے۔

عاطف اکرام نے کہا کہ بجٹ میں اہداف کو حقیقت پسندانہ ہونا چاہیے، تاہم مجموعی طور پر بجٹ متوازن ہے۔ ٹیکس اصلاحات کو سادہ اور مثبت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان سے آگاہی میں اضافہ ہوا ہے اور یہ خوش آئند پہلو ہے۔

انہوں نے بجلی کے یونٹ پر سبسڈی کے آپشن کو قابل تحسین قرار دیا اور کہا کہ یہ عوام کے لیے ریلیف کا باعث بنے گا۔ حیدرآباد-سکھر موٹروے کے لیے مختص بجٹ کو اچھا قدم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ معاشی ترقی کے لیے اہم ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ سپر ٹیکس میں کمی خوش آئند ہے جبکہ اسٹامپ ڈیوٹی کو 4 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کرنا بھی مثبت پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں اور حکومت نے کئی تجاویز پر غور کیا ہے۔

 اراکین نے رائے دی کہ ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں ترقی اور تیزی آئے گی کیونکہ ڈیوٹیوں میں کمی کی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ انڈسٹریز کو بھی ریلیف دیا جانا چاہیے تاکہ معیشت میں مجموعی بہتری آئے۔