وفاقی وزیر احسن اقبال کا میڈیا اینڈ انفارمیشن لٹریسی پالیسی فریم ورک پر مشاورتی اجلاس سے خطاب

13

اسلام آباد، 11 جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ ہم انسانی تاریخ کے ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جو سب سے زیادہ تیز رفتار تبدیلی کا دور ہے،اوراس کے پیچھے بنیادی قوت ٹیکنالوجی اورانویشن ہے۔ یہ وہ تبدیلیاں ہیں جن کا تصور ماضی میں ممکن نہ تھا۔ ہر شعبہ زندگی اس تبدیلی سے متاثر ہو رہا ہے، اور میڈیا کا شعبہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔

ان خیالات  کا اظہار  انہوں نے اسلام آباد میں منعقدہ “میڈیا اینڈ انفارمیشن لٹریسی پالیسی فریم ورک” پر مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  کیا جس میں میڈیا، تعلیمی اداروں، پالیسی سازوں، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندگان  کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد پاکستان میں میڈیا اور معلومات سے متعلق شعور کو فروغ دینے اور ایک جامع قومی پالیسی فریم ورک تشکیل دینا تھا، تاکہ عوام کو معتبر، مؤثر اور باخبر معلومات تک رسائی حاصل ہو سکے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ  آج کے دور میں سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ ہم ماس میڈیا کے دور سے مائیکرو میڈیا کے دور میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں ہر شخص ایک براڈکاسٹر بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب ماس میڈیا غالب تھا، تو میڈیا ادارے زیادہ سے زیادہ ویورشپ اور ریڈرشپ کے لیے ایسے موضوعات کا انتخاب کرتے تھے جو سماج کے مختلف طبقات کو یکجا رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یوں میڈیا معاشرتی ہم آہنگی اور وحدت کا ذریعہ بنتا تھا۔ لیکن اب مائیکرو میڈیا کے دور میں ہر شخص کے ہاتھ میں موجود اسمارٹ فون ہی اس کا ٹی وی اور ریڈیو اسٹیشن ہے۔ یہ صورتحال معلومات کے آزاد بہاؤ کو ممکن بناتی ہے، لیکن اس کے ساتھ چیلنجز بھی بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج معلومات کی فراوانی ہے جس میں درست، غیر مصدقہ اور افواہوں پر مبنی مواد سب شامل ہیں، اور اس میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس صورتحال میں میڈیا اور معلومات سے متعلق تعلیم (Media and Information Literacy) ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر شہری میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ موصول ہونے والی معلومات کو پرکھ سکے، اس کا تجزیہ کر سکے اور اس میں حقیقت اور غیر حقیقت کا فرق سمجھ سکے۔ انہوں نے اس حوالے سے قرآن مجید کے اس اصول کا حوالہ دیا کہ “جب تمہارے پاس کوئی خبر آئے تو اس کی تحقیق کرو، ایسا نہ ہو کہ تم لاعلمی میں کسی کو نقصان پہنچا بیٹھو” — یہ اصول آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا 14 سو سال پہلے تھا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں معلومات کا پھیلاؤ بے حد تیز ہو چکا ہے، اور اس نے دنیا بھر میں مکالمے، فہم و ادراک اور عوامی سوچ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے نشاندہی کی کہ ٹیکنالوجی نے اس سارے عمل کو اس قدر پیچیدہ بنا دیا ہے کہ اب خودکار الگورتھمز کی مدد سے معلومات کے بہاؤ کو ترتیب دیا جاتا ہے۔ یہ الگورتھمز عموماً ایسے مواد کو ترجیح دیتے ہیں جو زیادہ وائرل ہو، نہ کہ جو زیادہ درست ہو، اور یہی رجحان آج سچائی کو کمزور کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہر جگہ معلومات کا استعمال صرف تعلیم یا خبر تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک مضبوط آلہ بن چکا ہے جس کے ذریعے قومی بیانیے تشکیل دیے جاتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم میڈیا اور معلومات سے متعلق تعلیم کو فروغ دیں تاکہ سوسائٹی مضبوط، مربوط اور آگاہ رہ سکے۔