چینی قونصل جنرل ژاو شیریں کی کمشنر ملتان سے ملاقات ، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

20

ملتان ،18جولائی(اے پی پی ): چینی قونصل جنرل ژاو شیریں اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساوتھ پنجاب فواد ہاشم ربانی سے کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں اور ڈپٹی کمشنر وسیم حامد سندھو نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگوکی۔

چینی قونصل جنرل نے اس موقع پر بتایا کہ جنوبی پنجاب کے دورے کا مقصد باہمی تعاون اور شراکت داری کو مزید بڑھانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی پنجاب میں کوالٹی بیج کے سلسلے میں چاینیز کمپنیاں کام کر رہی جس سے فی ایکڑ پیدار میں اضافہ ہوگا.اس کے علاوہ زراعت کے فروغ کےلئے ڈیزرٹ فارمنگ اور میکانائزڈ فارمنگ میں تعاون کے منصوبے شروع کئے جارہے ہیں۔ قونصل جنرل نے بتایا کہ قراقرم ہائی وے کو کشادہ کرنے کا پلان تیار بھی کیا جارہا ہے۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری فواد ہاشم ربانی نے کمشنر ملتان کی کارکردگی کی تعریف کی اور انہیں انتظامی افسران کی بہت متحرک اور محنتی ٹیم میسر ہے۔انہوں  نے بتایا کہ ملتان ڈویژن کے تمام بڑے شہروں کو خوبصورت بنایا جارہا ہے۔

کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں نے اس موقع پر بتایا کہ سیوریج ملتان شہر کا سب سے بڑا مسلہ ہے اور شہر کی 500 کلومیٹر سیوریج لائن تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جس پر24 ارب روپے خرچ ہونگے،اس منصوبے کی تکمیل سے مستقبل کے20 برس کے لئے سیوریج کا مسلہ حل ہوجائےگا۔

کمشنر نے بتایا کہ سیوریج کےمسلے کے حل کے لئے مجوزہ پلان حکومت کو ارسال کر دیا گیا ہے۔عامر کریم خاں نے مزید بتایا کہ حکومت ملتان، رحیم یارخان سمیت سات شہروں کے سیوریج مسائل کے حل کے لئےورلڈ بنک سے 300 ملین ڈالر فنڈ حاصل کرنے کے لئےکوشاں ہے۔انہوں نے  چینی سرمایہ کاروں اور انجینئرز کےلئے جنوبی پنجاب میں چائنا ٹاون بسانے کی تجویز بھی دی اور کہا کہ چائنا ٹاون کے قیام سے سیکیورٹی کے مسائل حل ہوجائیں گے۔

ڈپٹی کمشنر وسیم حامد سندھو نے بتایا کہ ضع ملتان میں چائنیز سمیت غیر ملکی افراد کے لئے سیکیورٹی کا کوئی مسلہ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تاریخی ورثے کی بحالی کے لئے میگا پلان کی تیاری جاری ہے۔اس موقع پر کمشنر ملتان نے قونصل جنرل کو ضوبصورت سونئیر بھی پیش کیا۔

بعد ازاں چینی قونصل جنرل نے دربار حضرت شاہ رکن عالم کا دورہ کیا اور مزار پر چادر چڑھائی۔ انہوں نے ٹیوٹا انسٹی ٹیوٹ آف بلیو پاٹری کا وزٹ بھی کیا۔بلیو باٹری کی تیاری کے مراحل کا جائزہ لیا اور ہنرمندوں سے ملاقات کی۔