اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی صدارت میں صدارتی بیان منظور کرلیا

22

اسلام آباد، 25 جولائی (اے پی پی): اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے آج پاکستان کی صدارت میں منعقدہ اجلاس کے دوران صدارتی بیان (S/PRST/2025/5) منظور کرلیا، جس میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے اقوامِ متحدہ اور علاقائی و ذیلی علاقائی تنظیموں کے مابین تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔

بیان میں اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مقاصد و اصولوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے، عالمی امن و سلامتی کے قیام میں سلامتی کونسل کی بنیادی ذمہ داری کا اعادہ کیا گیا۔ سلامتی کونسل نے واضح کیا کہ اقوامِ متحدہ اور علاقائی و ذیلی علاقائی تنظیموں کے درمیان باہمی تعاون، خاص طور پر چارٹر کے باب ہشتم کے تحت، اجتماعی سلامتی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

بیان میں سلامتی کونسل کی سابقہ قراردادوں اور صدارتی بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ اور علاقائی اداروں کے درمیان مؤثر شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ کونسل نے اقوامِ متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل خالد خیاری اور تنظیم تعاون اسلامی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل یوسف ایم الدوبی کی بریفنگز کو سراہا۔

سلامتی کونسل نے اقوامِ متحدہ اور او آئی سی کے ذیلی اداروں کے مابین تعاون کا جائزہ لینے کے لیے 22 تا 24 جولائی 2024 کو آستانہ میں منعقدہ 16ویں دو سالہ اجلاس کا خیر مقدم کیا اور باہمی دلچسپی کے شعبہ جات میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو تسلیم کیا۔

بیان میں اس امر پر زور دیا گیا کہ اقوامِ متحدہ اور او آئی سی سمیت علاقائی تنظیمیں تنازعات کے حل میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، اور یہ کام اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ کونسل نے بین لاقوامی تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا، اور باب ششم کے تحت پرامن ذرائع جیسے مکالمہ، مصالحت، مشاورت، مذاکرات، ثالثی اور عدالتی طریقوں کو فروغ دینے پر زور دیا۔

سلامتی کونسل نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ او آئی سی کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے ثالثی کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کی کوششیں جاری رکھیں۔

بیان میں او آئی سی کے ان اقدامات کی تعریف کی گئی جو اس نے اقوامِ متحدہ کے تعاون سے تنازعات کی روک تھام، اعتماد سازی، قیامِ امن، تنازعات کے حل، ثالثی، اور سفارتی کوششوں کو فروغ دینے کے لیے کیے۔ سلامتی کونسل نے اس بات کو تسلیم کیا کہ امن کی تعمیر کے لیے او آئی سی اور پیس بلڈنگ کمیشن کے مابین مؤثر اشتراک ضروری ہے۔ کونسل نے او آئی سی کے رکن ممالک کی عالمی امن مشنوں میں شمولیت اور قیامِ امن کے لیے جاری عزم کو سراہا۔

بیان میں کہا گیا کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مؤثر اور مربوط نفاذ کے لیے او آئی سی سمیت علاقائی اداروں کے ساتھ قریبی تعاون ناگزیر ہے۔ معلومات اور تجزیے کے تبادلے کو بھی اہم قرار دیا گیا تاکہ تنازعات کی روک تھام، حل اور امن کی بحالی کے مشترکہ اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔

سلامتی کونسل نے او آئی سی کی صلاحیتوں کو بڑھانے کی کوششوں کو سراہا اور اس کے ساتھ تعاون کو بڑھانے کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ کونسل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اقوامِ متحدہ اور او آئی سی کے درمیان تعاون پر باقاعدہ بریفنگز کا انعقاد کیا جائے گا۔

سلامتی کونسل نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ اور علاقائی تنظیموں کے باہمی تعاون سے متعلق آئندہ دو سالہ رپورٹ میں او آئی سی کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سفارشات بھی شامل کریں۔