اسلام آباد،28 جولائی (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ڈیجیٹائزیشن اور کیش لیس اکانومی کے فروغ سے متعلق ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں معیشت کی ڈیجیٹل منتقلی پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معیشت کی ڈیجیٹائزیشن سے نہ صرف شفافیت کو فروغ ملے گا بلکہ عوام کو جدید مالیاتی سہولیات بھی بغیر اضافی اخراجات کے دستیاب ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ڈیجیٹائزیشن ٹرانسفارمیشن پلان کا بنیادی مقصد عوامی سہولت کو ترجیح دینا ہے۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ڈیجیٹل ادائیگیوں اور رقوم کی منتقلی کو فروغ دینے کے لیے فعال پالیسی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ وفاقی حکومت، اس پلان پر مؤثر اور جامع عمل درآمد کے لیے صوبائی حکومتوں سے بامعنی مشاورت کرے تاکہ یکساں ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تمام صوبائی حکومتیں، بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر، وفاقی حکومت سے بھرپور تعاون کریں تاکہ کیش لیس معیشت کا خواب حقیقت میں بدلا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اداروں کے تعاون سے وفاقی پلان کو مزید فعال اور مؤثر بنایا جائے تاکہ مقررہ اہداف بروقت حاصل کیے جا سکیں۔
وزیراعظم نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کو اس قومی پلان کا مستقل حصہ بنانے کی ہدایت بھی کی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ معیشت کی ڈیجیٹائزیشن کے سلسلے میں نیشنل ڈیجیٹل کمیشن اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے اور ان اداروں سے متعلقہ قوانین بھی ترتیب دیے جا چکے ہیں۔ اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے چیئرپرسن اور ممبران کی تعیناتی کا عمل آخری مراحل میں ہے۔
اجلاس کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ مرچنٹس کی ڈیجیٹل ادائیگیوں میں شمولیت کے لیے “مرچنٹ آن بورڈنگ فریم ورک” 25 جولائی 2025 کو جاری کر دیا گیا ہے، جو مالیاتی نظام کی وسعت کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔











