اسلام آباد، 28 جولائی (اے پی پی(:وزیرِ مملکت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی، کیسو مل کھیئل داس نے کہا ہے کہ بین الاقوامی امن، بقائے باہمی، اور تہذیبی احترام کے فروغ کے لیے مختلف مذاہب، ثقافتوں اور اقوام کے مابین ہم آہنگی کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ وہ “فاشزم پر فتح سے ایک مشترکہ انسانی مستقبل تک” کے عنوان سے سی جی ٹی این اردو اور چائنا میڈیا گروپ کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ آج دنیا شدت پسندی، مذہبی و ثقافتی تقسیم، طاقت کے غیر متوازن استعمال اور اخلاقی اقدار کی زوال پذیری جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسی صورتحال میں “ہم نصیب معاشرہ” کا تصور روشنی کی ایک کرن ہے، جو باہمی احترام، مساوات اور مشترکہ ترقی کی راہ دکھا سکتا ہے۔
وزیر مملکت نے فاشزم کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نظریے نے لاکھوں جانیں لیں، قوموں کو تباہ کیا اور عالمی امن کو خطرے میں ڈالا۔ انہوں نے چین کی فاشزم کے خلاف جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ قربانی، عزم اور اتحاد سے ظلم کو شکست دی جا سکتی ہے۔
اپنے ذاتی عقیدے کا ذکر کرتے ہوئے کیسو مل کھیئل داس نے کہا کہ وہ ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں مگر بھارت نے پاکستان پر جنگ مسلط کی ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کی جاتی ہے اور بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، پاکستان یا اسلام پر پر دہشت گردی کا الزام لگانا بے معانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں رمضان، ہولی، ایسٹر، نوروز اور بیساکھی جیسے مختلف تہواروں کو یکجہتی کے ساتھ منایا گیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان ایک کثیرالثقافتی معاشرہ ہے جہاں سب مذاہب کے ماننے والے مل جل کر رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسائل ضرور ہیں مگر ان کا تعلق مذہب سے نہیں بلکہ گورننس، انصاف اور ادارہ جاتی اصلاحات سے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ضرور ہے مگر یہ طاقت صرف امن کے لیے ہے۔ ہم جنگ نہیں چاہتے مگر اپنی سالمیت اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ بھی نہیں کریں گے۔











