اسلام آباد، 29 جولائی(اے پی پی): سینیٹر روبینہ خالد، چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے ‘میٹ دی پریس’ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی آئی ایس پی نہ صرف پاکستان کا ایک فلیگ شپ سوشل ویلفیئر پروگرام ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی کامیابی کو سراہا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تقریباً ایک کروڑ گھرانے مالی معاونت، نشوونما، اور تعلیمی وظائف کے ذریعے اس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کا دائرہ کار صرف مالی مدد تک محدود نہیں بلکہ یہ پروگرام عوام کو خود کفیل بنانے کے لیے نئے اقدامات پر عمل پیرا ہے۔ ہنر مندی کے فروغ اور نوجوانوں کو باعزت روزگار کی فراہمی اس پروگرام کی ترجیحات میں شامل ہے تاکہ افراد کو ایک پائیدار ذریعہ معاش میسر آ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ امداد وقتی سہولت ہے لیکن اصل بہتری تب آئے گی جب لوگوں کو روزگار سے جوڑا جائے گا۔
چیئرپرسن نے کہا کہ پاکستان میں انسانی وسائل کی بہت بڑی صلاحیت موجود ہے، جسے تربیت اور مہارت کے ذریعے ملکی اثاثے میں بدلا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی آئی ایس پی دیگر اداروں جیسے نیفٹیک اور اوورسیز فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ ٹیکنیکل اور ووکیشنل تربیت کے ذریعے نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنایا جا سکے۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں اس بات پر بھی زور دیا کہ بی آئی ایس پی کی سب سے بڑی طاقت خواتین کی شمولیت ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کے وژن کے مطابق اس پروگرام میں گھرانے کی سربراہی خواتین کو دی گئی ہے،اور قومی شناختی کارڈ کو لازمی قرار دے کر لاکھوں خواتین کو قومی ڈیٹا بیس میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف خواتین کی قومی سطح پر شناخت ممکن ہوئی بلکہ بچوں، خصوصاً بچیوں کا برتھ سرٹیفکیٹ اور ب فارم کے ذریعے اندراج بھی بڑھا ہے۔
چیئرپرسن روبینہ خالد نے میڈیا کو آگاہ کیا کہ پہلے گھر گھر سروے کے ذریعے رجسٹریشن کی جاتی تھی، جو وقت طلب اور مہنگا عمل تھا۔ اب بی آئی ایس پی نے ہر تحصیل میں “ڈائنامک رجسٹری” مراکز قائم کیے ہیں، جہاں درخواست دہندگان سے براہ راست معلومات لے کر ان کی اہلیت کا تعین کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کو بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی رہتا ہے، مگر ایک ایسا پروگرام جس سے ایک کروڑ خاندان جڑے ہوں، اس میں بہتری کے پہلوؤں کو اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ دنیا کے مختلف ممالک سے وفود پاکستان آ رہے ہیں تاکہ بی آئی ایس پی ماڈل سے سیکھا جا سکے اور اسے اپنے ملکوں میں نافذ کیا جا سکے۔
انہوں نے میڈیا سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عوامی آگاہی مہمات میں میڈیا کا کردار کلیدی ہے۔ اگر کوئی شکایات یا تجاویز ہوں تو بی آئی ایس پی ان کا خیرمقدم کرے گا اور ان پر عملدرآمد کی بھرپور کوشش کرے گا۔ چیئرپرسن نے کہا کہ فراڈ سے بچاؤ اور آگاہی کے لیے میڈیا مہمات شروع کی گئی ہیں اور مستقبل میں بھی میڈیا کے ساتھ مل کر آگے بڑھا جائے گا۔











