اسلام آباد، 30جولائی(اے پی پی):وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و تجارت ہارون اختر خان کی زیر صدارت الیکٹرک وہیکل پالیسی سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے درکار ہنرمند افرادی قوت کی تیاری اور تکنیکی تربیت کے حوالے سے جامع تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں نیو ٹیک جرمن کمپنیوں لُوکَس نُول (Lukas Nuelle) اور انسٹیٹیوٹ آف موٹر انڈسٹری، نیز انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے نمائندوں نے شرکت کی۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا وژن ہے کہ الیکٹرک وہیکل کی پالیسی پاکستان کے لیے کامیابی کا راستہ بنے، جس کے لیے ہنرمند افرادی قوت کی تیاری ناگزیر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب الیکٹرک گاڑیاں سڑکوں پر آئیں گی تو ان کی سروس اور بیٹری کی دیکھ بھال کے لیے تربیت یافتہ ماہرین کی ضرورت ہوگی۔
نیو ٹیک کے مطابق، جرمن کمپنیاں پاکستان میں الیکٹرک وہیکل ٹریننگ فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ اس حوالے سے بین الاقوامی معیار کے مطابق تربیتی ماڈلز تیار کیے جائیں گے۔
ہارون اختر خان نے انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ اور وزارتِ صنعت کو ہدایت کی کہ وہ نیو ٹیک اور جرمن کمپنیوں کے ساتھ مل کر جامع منصوبہ تیار کریں تاکہ ملک میں تربیت یافتہ تکنیکی افرادی قوت تیار ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں تربیت سے نہ صرف تکنیکی مہارت میں اضافہ ہو گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، اور یہ ٹیکنیشنز پاکستان کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوں گے۔











