اسلام آباد،31 جولائی(اے پی پی): وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی جانب سے منعقدہ ایک اہم ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشی دباؤ اور سخت مالی حالات کے باوجود حکومت نے اس پروگرام کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابقہ ادوار میں بھی اس پروگرام کو بھرپور توجہ دی گئی، اور موجودہ حکومت نے بھی اس کے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ معاشی صورتحال، عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط اور مجموعی اخراجات میں کمی کے باوجود، یہ پروگرام مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ براہ راست مالی امداد کے ذریعے کمزور طبقے کی خواتین کو خودمختاری دیتا ہے، اور لاکھوں خاندانوں کو ریلیف فراہم کرتا ہے۔
بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ملک کو کیش لیس معیشت کی طرف لے جانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس کمیٹی میں تمام متعلقہ سرکاری اور نجی ادارے شامل ہیں، جن میں مرکزی بینک، وزارت آئی ٹی، وزارت خزانہ اور بینکاری و ٹیلی کمیونیکیشن شعبوں کے نمائندگان شامل ہیں۔ یہ کمیٹی نہ صرف مستقل بنیادوں پر اجلاس منعقد کرتی ہے بلکہ اس میں دی جانے والی تجاویز پر عملی اقدامات بھی اٹھائے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی کا مقصد ادائیگیوں کے ڈیجیٹل طریقوں کو فروغ دینا، جدید مالیاتی ڈھانچے کی تعمیر، اور سرکاری ادائیگیوں کو ڈیجیٹل بنانا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کو سہولت فراہم کرتے ہوئے نقدی پر انحصار کم سے کم کر دیا جائے، تاکہ لوگ کسی دفتری نظام یا ادائیگی کے مراکز پر جا کر وقت ضائع کرنے سے بچ سکیں۔
انہوں نے ورکشاپ کے شرکاء پر زور دیا کہ وہ ایسی تجاویز پیش کریں جو عملی، قابلِ نفاذ اور مؤثر ہوں تاکہ انہیں حکومتی سطح پر اٹھا کر فیصلہ سازی کا حصہ بنایا جا سکے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ مستحقین کو خدمات فراہم کرتے وقت انہیں عزت و وقار کے ساتھ صارف سمجھا جائے، تاکہ احساسِ شراکت پیدا ہو اور ریاست و شہری کے درمیان اعتماد بڑھے۔











