اسلام آباد، 6 اگست (اے پی پی ): وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیر صدارت دیوالیہ قانون اور ریاستی اداروں کی غیر ضروری ہراسانی سے متعلق ذیلی کمیٹیوں کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسن افضل، پاکستان بزنس کونسل، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک، چیمبرز آف کامرس، ایس ای سی پی، اینٹی منی لانڈرنگ اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
اجلاس میں کارپوریٹ بحالی ایکٹ 2018 میں اہم ترامیم کی تجاویز پیش کی گئیں جن میں ریکوری پر مبنی اہلیت کی حد ختم کرنا، عدالتی حکم سے اسٹے آرڈر کا نیا طریقہ کار متعارف کرانا، اور وائنڈنگ اپ آرڈر کی شکار کمپنیوں کو ریلیف دینا شامل ہیں۔
کمیٹی نے اسٹیٹ بینک کے سرکلر نمبر 29 کے تحت ریلیف لینے والی کمپنیوں کو بھی مجوزہ ترامیم میں شامل کرنے کی سفارش کی۔ مزید برآں، اثاثوں کی ویلیوایشن اور ثالثی کا جامع نظام وضع کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ یہ پالیسی ایک جامع پیکج پر مشتمل ہوگی جس سے متاثرہ کمپنیاں فائدہ اٹھا سکیں گی۔ بنکروپسی قانون صنعتوں کے استحکام کے لیے ایک مکمل اور مددگار قانون ثابت ہوگا۔
اجلاس میں کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ کمپنیز ایکٹ 2016 میں بھی اصلاحات کی تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کارپوریٹ ریہیبلیٹیشن بورڈ کی فعالیت تاخیر کا شکار رہی ہے جس کی بڑی وجہ تقرری کے سخت معیار اور بجٹ کی کمی ہے۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ اب بینک اور قرض لینے والے ادارے مل کر کام کریں گے تاکہ دیوالیہ پن کی صورتحال سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے۔ریاستی اداروں کی غیر ضروری ہراسانی سے متعلق ذیلی کمیٹی نے بھی سفارشات پیش کیں، جن میں ایس ای سی پی کے خودمختار کردار کے تحفظ اور اس کے فیصلوں کے دفاع کے لیے مؤثر قانونی فریم ورک فراہم کرنے کی تجویز شامل ہے۔ ہارون اختر خان نے غیر سیاسی اور مداخلت سے پاک ماحول کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔
ہارون اختر خان نے وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی اور غیر ضروری ہراسانی کا خاتمہ حکومت کی ترجیح ہے۔معاون خصوصی نے ذیلی کمیٹیوں کی کارکردگی کو سراہا اور مستقبل میں مزید عملی پیشرفت کی امید ظاہر کی۔











