اسلام آباد، 11 اگست( اے پی پی ): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط اور استحقاق کا اجلاس سینیٹر سید وقار مہدی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹرز پلوشہ محمد زئی خان، سردار الحاج محمد عمر گورگج، سعدیہ عباسی، دوست علی جیسر، راجہ ناصر عباس، جان محمد اور وزارت پارلیمانی امور ڈویژن کے دیگر حکام، فیڈرل بورڈ اینڈ ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے شرکت کی۔
کمیٹی کو سینیٹر سردار الحاج محمد عمر گورگج کی جانب سے 21-06-2025 کو چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی بدانتظامی کے حوالے سے پیش کی گئی تحریک استحقاق پر بریفنگ دی گئی۔ سینیٹر سردار الحاج محمد عمر گورگج نے کمیٹی کو بتایا کہ بلوچستان سے بڑی تعداد میں کانسٹیبلز کا کراچی تبادلہ کر دیا گیا ہے جس سے کچھ اہلکاروں کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں جنہیں ترجیحی طور پر ٹرانسفر کرنے کی بجائے اپنے صوبے میں تعینات کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ معاملہ کئی سینئر افسران کے ساتھ اٹھایا ہے تاہم ان کے تحفظات کو دور نہیں کیا گیا۔ جس کے بعد چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ بہت سے کانسٹیبل اسمگلنگ کی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے جو ان کے تبادلوں کی وجہ ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ منتقلی کے لیے ان کا ایک الگ طریقہ کار ہے، جس کے تحت ای میل کے ذریعے درخواست بھیجی جا سکتی ہے، اور جائزہ لینے کے بعد، اگر معاملہ درست پایا جاتا ہے، تو منتقلی پر دوبارہ غور کیا جاتا ہے۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد چیئرمین کمیٹی نے سفارش کی کہ کانسٹیبلز کو درخواستیں جمع کرانے کی اجازت دی جائے کیونکہ ان میں سے اکثر ای میل کرنے کے لیے کافی تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ وہ رواں ہفتے اس معاملے کا جائزہ لے کر کمیٹی کو رپورٹ پیش کرے۔
کمیٹی نے کراچی کے ایک واقعے پر بھی تبادلہ خیال کیا جہاں کسٹم افسران نے بغیر پیشگی اطلاع کے، دکانوں پر چھاپہ مارا اور مبینہ طور پر ناروا سلوک کیا اور افراد کو جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس معاملے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اگر کوئی افسر ایسی بدتمیزی میں ملوث پایا گیا تو اسے معطل کر دیں گے۔ چیئرمین کمیٹی نے چیئرمین ایف بی آر کو مزید ہدایت کی کہ وہ جائے وقوعہ کا دورہ کریں اور متعلقہ تاجروں سے ملاقات کریں۔











