اسلام آباد، 27 اگست (اے پی پی ): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ کسی بھی صوبے میں سیلابی صورتحال سے پیدا ہونے والے مسائل کو ملکی سطح پر مکمل ہم اہنگی سے حل کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظرہر ممکن تعاون فراہم کیا،پنجاب میں بھی وفاقی حکومت بھرپور تعاون کرے گی۔
ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے پنجاب میں شدید بارشوں اور دریائے چناب، ستلج اور راوی میں ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وزیراعظم کو دریاؤں کی صورتحال، متاثرہ علاقوں میں پیشگی انخلاء، محفوظ مقامات پر منتقلی اور امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیراعظم نے ہدایت دی کہ سیلابی صورتحال میں عوام کی جان و مال، فصلوں اور مال مویشیوں کو نقصان سے بچانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں۔ گجرات، سیالکوٹ اور لاہور میں ممکنہ اربن فلڈنگ سے نمٹنے کے لیے تمام انتظامی تیاریاں مکمل رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی، ذرائع مواصلات اور سڑکوں کی مرمت کے لیے وفاقی وزراء اور متعلقہ حکام صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر عملی تعاون کریں۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے اجلاس کو بتایا کہ اب تک پنجاب کے متاثرہ علاقوں میں 5 ہزار خیمے فراہم کیے جا چکے ہیں جبکہ دیگر امدادی سامان کی ترسیل جاری ہے۔ متاثرین کے بروقت انخلاء کے لیے 2000 ٹرک مہیا کر دیے گئے ہیں۔ ریسکیو 1122، سول ڈیفنس، رینجرز، پی ڈی ایم اے، فوج اور پولیس سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پیشگی اقدامات کر رہے ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے مقامات پر اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، جبکہ دریائے ستلج اور دریائے راوی کے مختلف مقامات پر بھی پانی کے دباؤ کی صورتحال تشویشناک ہے۔وزیراعظم نے سندھ میں سیلابی ریلوں کے ممکنہ خطرے کے حوالے سے پیشگی اطلاع دینے کی بھی خصوصی ہدایت کی۔











