لاہور، 29 اگست (اے پی پی): وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت ویسٹ ٹو انرجی پراجیکٹ میں ہونے والی پیش رفت پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری بلدیات شکیل احمد میاں، سیکرٹری انرجی ڈاکٹر فرخ نوید اور لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے سی ای او بابر صاحب دین نے شرکت کی۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ پنجاب میں کوڑے سے 150 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور سے پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لکھوڈیر سائٹ پر کوڑے کی ری سائیکلنگ ماحول دوست طریقے سے کی جائے گی جبکہ سندر اسٹیٹ میں ویسٹ سے 50 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والا پلانٹ لگایا جائے گا۔ روزانہ تین ہزار ٹن ویسٹ سے اتنی مقدار میں بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پانچ غیر ملکی کمپنیوں نےاس منصوبے میں دلچسپی ظاہر کی ہےجبکہ اس پراجیکٹ پر 50 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ صوبائی وزیر نے پنجاب حکومت کے زیر انتظام اپنا پلانٹ لگانے کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ فیصل آباد، راولپنڈی، گوجرانوالہ، ملتان، بہاولپور اور سیالکوٹ میں بھی اس منصوبے کے امکانات موجود ہیں۔ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے جس کے ذریعے ویسٹ سے بجلی پیدا کی جائے گی۔ انہوں نے جاپان ماڈل کے مطابق پلانٹ کا ماحول دوست ڈیزائن تیار کرنے کی بھی ہدایت دی۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ دنیا بھر میں اس وقت ویسٹ ٹو انرجی کے 1200 پلانٹس کام کر رہے ہیں جبکہ چین میں گیارہ ہزار میگاواٹ کے 300 پلانٹ فعال اور مزید 800 زیر تعمیر ہیں۔ سیکرٹری بلدیات نے کہا کہ لاہور کے ساتھ دیگر شہروں میں بھی ایسے پلانٹس لگانے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ سیکرٹری انرجی کے مطابق پری کوالیفیکیشن کا عمل جلد مکمل کر لیا جائے گا۔











