نعت تاریخ کے آئینے میں عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر فاروق حسین شاہ کا اے پی پی پر خصوصی پروگرام

9

اسلام آباد،05 (اے پی پی ): معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر فاروق حسین شاہ نے کہا ہے کہ نعت گوئی اسلامی تہذیب و ثقافت کا وہ روشن باب ہے جس نے ہر دور میں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو کو زندہ رکھا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کے آئینے میں اگر دیکھا جائے تو نعت کی روایت آغازِ اسلام سے ہی موجود ہے اور آج بھی یہ ایمان، محبت اور عقیدت کا ایک انمول اظہار ہے۔

عید میلاد النبی ﷺ کے حوالے سے اپنے خصوصی پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سب سے پہلے بارگاہِ رسالت میں نعتیہ اشعار پیش کیے۔ حضرت حسان بن ثابتؓ کو “شاعرِ رسول ﷺ” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے کلام کے ذریعے رسول اکرم ﷺ کی مدح سرائی اور دینِ اسلام کے دفاع کا فریضہ سرانجام دیا۔ اسی طرح وقت کے ساتھ ساتھ مختلف ادوار میں نعت نے اپنی ادبی و فکری جہت کو مزید وسعت دی اور برصغیر کی ادبی تاریخ میں بھی یہ صنف نمایاں رہی۔

ڈاکٹر فاروق حسین شاہ نے کہا کہ نعت دراصل سیرت النبی ﷺ کی عملی تفسیر ہے، کیونکہ اس کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ، اخلاقِ حسنہ اور انسانیت کے لیے آپ کی رحمت کو بیان کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم نعت کو صرف جذباتی اظہار تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کے اندر موجود پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ عید میلاد النبی ﷺ ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ نعت محض ادب کی صنف نہیں بلکہ یہ ہمارے ایمان اور عقیدے کا حصہ ہے۔ یہ صنف ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہی اصل محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا ہے۔ نعت نے تاریخ کے ہر دور میں مسلمانوں کے ایمان کو تازگی بخشی اور آج کے دور میں بھی یہ ہماری دینی و ثقافتی شناخت کا ایک لازمی جزو ہے۔

ڈاکٹر فاروق حسین شاہ نے آخر میں کہا کہ عید میلاد النبی ﷺ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہم نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات سے روشنی لے کر اپنے معاشرے میں انصاف، محبت اور خدمتِ خلق کو فروغ دیں۔