راولپنڈی، 7 ستمبر( اے پی پی): یوم دفاعِ و شہداء پاکستان کے اُن سپوتوں کو یاد کرنے اور خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے، جنہوں نے وطنِ عزیز کی حفاظت کے لیے اپنا آج قربان کر دیا۔ راولپنڈی میں قائم پاک فوج کا ادارہ اے ایف آئی آر ایم (Armed Forces Institute of Rehabilitation Medicine) ان غازیوں کا وہ مرکز ہے جہاں جسمانی زخموں کے ساتھ جیتے جاگتے جذبوں کو نئی زندگی دی جاتی ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف زخمی فوجیوں بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی امید کا روشن چراغ ہے، جہاں جدید بحالی سہولیات کے ذریعے زخمیوں کو زندگی کی نئی روشنی عطا کی جاتی ہے۔
اے ایف آئی آر ایم میں زیر علاج کئی ایسے باہمت غازی موجود ہیں جن کی داستانیں سن کر دل فخر اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ شمالی وزیرستان میں سرچنگ کے دوران ایک آئی ای ڈی دھماکے کا نشانہ بننے والے سپاہی عبدالقادر آج بھی اسی جذبے سے سرشار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وطن پر جان قربان کرنے کو آج بھی تیار ہوں۔
اسی طرح سپاہی محمد اسلم، جنہیں 16 مئی 2021 کو ایک حادثے کے بعد اپنی ٹانگ سے محروم ہونا پڑا، پاک فوج کے بھرپور تعاون سے نہ صرف جسمانی طور پر سنبھلے، بلکہ مصنوعی ٹانگ لگا کر دوبارہ ڈیوٹی پر حاضر ہو چکے ہیں۔ وہ پُراعتماد انداز میں کہتے ہیں کہ ایک ٹانگ کیا، پورا جسم بھی کٹ جائے تو مسئلہ نہیں، وطن سے محبت باقی ہے-ان کا مزید کہنا ہے کہ جب سے میں زخمی ہوا ہوں، پاک فوج نے مجھے کبھی تنہا نہیں چھوڑا۔
لانس نائیک ناہید اللہ مروت بھی انہی باہمت سپاہیوں میں شامل ہیں، جو 13 اگست 2024 کو جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران زخمی ہوئے۔ بعد ازاں ان کی ٹانگ کاٹنی پڑی، مگر ان کا جذبہ آج بھی قائم ہے۔ وہ کہتے ہیں:ل کہ یہ قربانی ہم نے ملک و قوم کی خاطر دی ہے۔
ان جانبازوں کی جسمانی بحالی میں اے ایف آئی آر ایم کا کردار کلیدی ہے۔ ادارے کے میڈیکل آفیسر میجر ڈاکٹر عمار کے مطابق جب کوئی جنگی زخمی اے ایف آئی آر ایم میں رپورٹ کرتا ہے تو پاک فوج فزیکل تھراپی سمیت ہر ممکن سہولت فراہم کرتی ہے۔ یہ غازی اور زخمی ہمارے ہیروز ہیں اور ان کی خدمت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ان ہیروز کی وجہ سے ہی ہمارا ملک قائم و دائم ہے، اور بطور ڈاکٹر ہمارے لیے یہ باعثِ فخر ہے کہ ہم ان کا علاج کر رہے ہیں۔ شہداء اور غازی ہماری تاریخ کے وہ روشن چراغ ہیں جن کی روشنی نسلوں کو راستہ دکھاتی رہے گی۔ ان کے زخم، ان کا حوصلہ، ان کی قربانی ، سب ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں، اور وطن کے لیے جان تک قربان کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔یومِ دفاع و شہداء ہمیں ان عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، اور اس عزم کی تجدید کرواتا ہے کہ ہم اپنے ان ہیروز کو کبھی فراموش نہیں کریں گے، جو آج بھی سینہ تان کر اس دھرتی کا دفاع کر رہے ہیں۔











