اسلام آباد، 08 ستمبر(اے پی پی): وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے موجودہ چیلنجز کو کسی ایک ادارے کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا، اس کے لیے کمیونٹی انوالومنٹ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ شرح خواندگی پچھلے کئی برسوں سے ساٹھ فیصد کے آس پاس رکی ہوئی ہے، اگر بچے اسکول سے باہر ہیں تو ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ کیوں باہر ہیں، اگر وہ کام کر کے روزانہ گھر کے لیے کچھ پیسے لا رہے ہیں تو محض راشن یا معمولی وظیفے سے انہیں اسکول نہیں لایا جا سکتا بلکہ انہیں یہ یقین دلانا ہوگا کہ تعلیم ان کے لیے ایک طویل المدتی سرمایہ کاری ہے۔
وجیہہ قمر نے کہا کہ ہنرمندی، اپ اسکیلنگ اور ری اسکیلنگ کے بغیر تعلیمی نظام غیر متعلق ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سوچنا ہوگا کہ صرف ڈگریاں بانٹنے سے نوجوانوں کو روزگار نہیں ملے گا، اصل ضرورت یہ ہے کہ تعلیم کو عملی زندگی سے جوڑا جائے۔
ڈیجیٹل خواندگی کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ مملکت نے کہا کہ آج صرف لکھنا پڑھنا کافی نہیں بلکہ ڈیجیٹل سکلز بھی ضروری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ تعلیم اور وزارتِ آئی ٹی نے حال ہی میں ٹک ٹاک پر “اسٹیم فیلڈ” کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا ہے جسے سب سے زیادہ مقبولیت پاکستان میں حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ہم درست حکمتِ عملی سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو استعمال کریں تو ان پڑھ طبقے تک بھی تعلیمی پیغام پہنچایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ بدلتی دنیا کے تقاضوں کے مطابق تعلیم کی تعریف اور حکمتِ عملی کو نئے سرے سے وضع کرنا ہوگا، ورنہ ہم محض موجودہ اعداد و شمار پر رکے رہیں گے اور دنیا آگے بڑھتی جائے گی۔











