اسلام آباد، 16 ستمبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (آئی آر ایس)، اسلام آباد اور سینٹر فار سکیورٹی اسٹریٹجی اینڈ پالیسی ریسرچ (سی ایس ایس پی آر)کی جانب سے ‘‘اسٹریٹجک ریكننگ: ڈیٹرنس اور ایسکلیشن پر نظریات’’کے موضوع پر کتاب کی رونمائی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء تارڑ نے تقریب سے خطاب میں اس اشاعت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 کی عسکری جھڑپ کو سمجھنے کے لیے ایک نہایت اہم حوالہ ہے۔انہوں نے کہا کہ میں تمام معزز مصنفین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس قدر بروقت اور گہرا تحقیقی کام پیش کیا۔ ’اسٹریٹجک ریكننگ‘ صرف ایک علمی کاوش نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی حالیہ تاریخ کے ایک نہایت خطرناک بحران پر ایک لازمی عکاسی ہے، تقریب میں سفارتکاروں، محققین، صحافیوں اور سرکاری حکام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
کتاب کی ایڈیٹر ڈاکٹر رابعہ اختر نے بحران کو ‘‘نیا ابہام’’ قرار دیا جس میں بھارت نے پیشگی حملوں کو معمول بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے پاکستان کے متوازن ردعمل کو بھارت کی مہم جوئی کے برعکس ذمے دارانہ قرار دیا۔
مضامین میں ڈیٹرنس کے نازک پن، محدود وقت میں کشیدگی کے بڑھنے کے خطرات اور ممکنہ تباہ کن نتائج پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ سفیر مسعود خان، سابق صدر آزاد جموں و کشمیر، نے پہلگام حملے کو ایک اہم موڑ قرار دیا اور کہا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا میں بدامنی کا مرکزی عنصر ہے۔











