ایچ پی وی ویکسین مہم: قومی سطح پر پارلیمانی قیادت کے ہمراہ آگاہی سیمینار کا انعقاد

13

اسلام آباد، 17 ستمبر (اے پی پی): قومی سطح پر پارلیمانی قیادت کے ہمراہ ایچ پی وی ویکسین مہم سے متعلق آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی قومی مہم کا آغاز ایک تاریخی قدم ہے۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہر سال پاکستان میں تقریباً 5 ہزار خواتین سروائیکل کینسر کا شکار ہو جاتی ہیں جن میں سے تین ہزار خواتین جان کی بازی ہار جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے 150 سے زائد ممالک اپنے قومی ویکسینیشن پروگرامز میں ایچ پی وی ویکسین شامل کر چکے ہیں اور پاکستان نے بھی اپنے بچوں اور خواتین کے تحفظ کے لیے عملی قدم اٹھایا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مہم کا پہلا مرحلہ پنجاب، اسلام آباد، سندھ اور آزاد جموں و کشمیر میں جاری ہے جبکہ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان نے دوسرے مرحلے کے آغاز کے لیے وقت طلب کیا ہے۔وزیر صحت نے کہا کہ یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ویکسین ہے لہٰذا جھوٹے اور منفی پروپیگنڈے پر یقین نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی خاتون جھوٹے پروپیگنڈے کی وجہ سے ویکسین نہ لگوائے اور کینسر میں مبتلا ہو جائے تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟ جو لوگ جھوٹا پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں وہ خدا سے ڈریں، ہر چیز کو سیاست کی نذر نہ کریں اور جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والوں کو دنیا و آخرت میں اس کا حساب دینا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ 30 لاکھ افراد بیماریوں کے باعث سطح غربت سے نیچے چلے گئے ہیں۔ وزیر صحت نے کہا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں، اپنی بچیوں کو اس موذی مرض سے بچائیں اور ویکسینیشن کو یقینی بنائیں۔وفاقی وزیر صحت نے زور دیا کہ صحت سیاست سے بالاتر ہے اور قوم کی بیٹیوں کی حفاظت ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔