ملتان، 24 ستمبر (اے پی پی ): کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں کی زیر صدارت سیلاب سے متعلق ریسکیو، ریلیف اور بحالی انتظامات کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ملتان ڈویژن کی 14 میں سے 11 تحصیلیں حالیہ سیلاب سے براہ راست متاثر ہوئیں۔کمشنر نے کہا کہ ضلع ملتان کے 163 موضع جات اور 2 لاکھ 22 ہزار 765 ایکڑ زمین زیر آب آئی۔ متاثرہ علاقوں میں 25 ریلیف کیمپس اور 20 سب کیمپس قائم کئے گئے، جن میں اس وقت جلالپور میں 3 فنکشنل ہیں۔
ضلع ملتان کے سیلاب متاثرہ علاقوں سے 3 لاکھ 64 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلع وہاڑی میں 88 ہزار 998 ایکڑ اراضی متاثر ہوئی، جہاں 21 ریلیف کیمپس قائم کئے گئے۔
ضلع وہاڑی سے 88 ہزار 649 افراد اور ایک لاکھ 28 ہزار 504 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ اس کے علاوہ 19 کلینکس آن وہیلز، 11 میڈیکل کیمپس، 2 کلینکس آن بوٹس، 12 ویٹنری کیمپس اور 5 ویٹنری ڈسپنسریز قائم کی گئیں۔
ضلع میں 95 ہزار 173 مویشیوں کی ویکسینیشن بھی کی گئی جبکہ وبائی امراض کے کنٹرول کیلئے 10 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ضلع لودھراں میں 43 موضع جات اور 41 ہزار 577 ایکڑ زمین سیلاب کی لپیٹ میں آئی۔ ضلع سے 35 ہزار 755 افراد اور 25 ہزار 21 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ وہاں 24 ریلیف کیمپس قائم کئے گئے جہاں متاثرین کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں۔
کمشنر نے مزید بتایا کہ ضلع خانیوال میں 1 لاکھ 29 ہزار 508 ایکڑ زمین زیر آب آئی اور 100 دیہات متاثر ہوئے۔ ضلع میں 20 کلینکس آن وہیلز، لائیو اسٹاک کی 5 سے زائد ٹیمیں اور متعدد موبائل ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں سرگرم عمل رہیں۔
کمشنر عامر کریم خاں نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی کے تمام اقدامات کو ترجیحی بنیادوں پر جاری رکھا جائے گا اور کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔











